حیاتِ نور

by Other Authors

Page 44 of 831

حیاتِ نور — Page 44

اول ۴۴ اذا ما بكى من خلفها انصرفت له بشق و تحتى شفها لم تحول پڑھنے کوتو میں نے یہ شعر پڑھ ہی دیا مگر اس حالت کو کوئی کیا سمجھ سکتا ہے۔جب انہوں نے کہا کہ اس شعر کا ترجمہ کرو۔میں نے میاں محمد کی طرف دیکھا اور انہوں نے منہ کے سامنے کوئی چیز کر کے گردن جھکائی اور مسکرائے۔وہ بھی خاموش اور میں بھی چُپ۔منشی صاحب کی طبیعت بہت ہی نیک تھی۔وہ فورا سمجھ گئے کہ یہ کوئی فحش شعر ہو گا اور بات کو ٹلا دیا اور سلسلہ کلام شروع کر دیا۔" آپ فرماتے ہیں: اس روز مجھ کو یہ سبق ملا کہ بات کو منہ سے نکالنے میں انسان کو بہت زیادہ عاقبت اندیشی سے کام لینا چاہنے کو بعض اوقات زیادہ غور و خوض انسان کو نقصان بھی پہنچا دیتا ہے۔مگر اس کی تلافی دعاؤں سے ہو سکتی ہے۔مجھ کو اپنی اس حرکت پر بڑی حیرت رہی۔مگر ان کی شرافت دیکھو کہ کسی دن بھی انہوں نے اس شعر کے متعلق مجھ سے نہ پوچھا“۔۲۵ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے آپ نے بخاری اور ہدایہ حضرت مولوی عبد القیوم صاحب سے پڑھیں اور حدیث مسلسل بالا ولیت آپ نے وہاں کے مفتی صاحب سے سنی مجزاہ اللہ احسن الجزاء۔جو انہوں نے محمد بن ناصر حضرمی سے روایت کی۔خدا تعالٰی جو ہر ہے یا جسم بچپن کے زمانہ میں ایک مرتبہ آپ نے حضرت مولانا محمد اسمعیل صاحب شہید علیہ الرحمۃ کی کتاب " الحق الصریح فی احکام المیت والضریح پڑھی اس میں لکھا تھا کہ خدا تعالیٰ کو یہ کہنا کہ وہ جو ہر بھی نہیں ، وہ جسم بھی نہیں وغیرہ بدعت ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں خدا تعالیٰ سے دعا مانگا کرتا تھا کہ ( کوئی شخص اس جو ہر و عرض والی بات پر اعتراض نہ کرے۔میری طالب علمی کے زمانہ میں کسی نے اعتراض نہ کیا۔میں جب بھوپال گیا تو وہاں ایک مفتی صاحب سے میں نے کہا کہ خواجہ محمد پارسا کی کتاب فصل الخطاب مجھ کو کہیں سے لا دو۔انہوں نے وہ کتاب مجھ کو دی۔میں