حیاتِ نور

by Other Authors

Page vi of 831

حیاتِ نور — Page vi

اول پیش کرنے کا موقعہ عطا فر مایا۔پہلے آپ کے ارشاد کے ماتحت میں نے حضرت حافظ مختار احمد صاحب احت میں نے حضر شاہجہاں پوری کو ایک حصہ مسودہ کا پڑھ کر سنایا پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا میری نیت صرف یہ تھی کہ مسودہ حضور کے ہاتھ میں دے کر اس کے بابرکت ہونے کے لئے دعا کی درخواست کروں گا۔جس وقت میں نے آپ کی کوٹھی پر حاضر ہو کر اندر اطلاع بھجوائی۔تو بیماری کی وجہ سے آپ کی طبیعت نہایت ہی کمزور تھی اور ضعف کا یہ حال تھا کہ دیوار کے ساتھ سہارا لے کر نہایت ہی تکلیف کے ساتھ آپ برآمدہ میں تشریف لائے۔مگر چہرہ ہشاش بشاش تھا۔دو آدمیوں کے سہارے سے آپ کرسی پر تشریف فرما ہوئے۔میں نے مزاج پرسی کے بعد مسودہ آپ کے ہاتھ میں دیا اور یہ کہنا چاہتا تھا کہ حضور اس پر دعا فرمائیں۔مگر میری زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکل گئے کہ حیات طیبہ کا پیش لفظ تو حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب نے لکھا تھا ، اب میں حیران ہوں کہ اس کتاب کا پیش لفظ لکھنے کے لئے کس بزرگ سے درخواست کروں۔مگر خدا تعالیٰ گواہ ہے۔کہ جب یہ الفاظ میری زبان سے نکلے۔اس وقت میرے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی ، کہ میں بیماری اور کمزوری کے ان ایام میں آپ کو پیش لفظ لکھنے کی تکلیف دوں ، مگر قربان جائیے اس رحیم و کریم انسان پر کہ میرا یہ فقرہ سن کر فوراً فرمایا۔کہ دس دن کے لئے یہ مسودہ میرے پاس رہنے دیں، میں اسے پڑھوں گا۔اس مختصری گفتگو کے بعد میں آپ سے رخصت ہو کر لاہور آ گیا۔آپ کی کمزوری اور ضعف کو مد نظر رکھ کر میں نے آٹھویں دن لکھا۔کہ اگر مسودہ حضور نے ملاحظہ فرمالیا ہوتو میں لینے کے لئے حاضر ہو جاؤں۔اس کا جواب آپ کی طرف سے یہ آپا کہ میں ان ایام میں زیادہ بیمار رہا ہوں، اس لئے دیکھ نہیں سکا، مگر دیکھوں گا ضرور! اس جواب کے پانچ چھ دن کے بعد مجھے اتفاق سے ربوہ جانا پڑا۔آپ کی خدمت میں بھی حاضری ضروری تھی، کیونکہ ربوہ جا کر آپ سے ملاقات کئے بغیر چین ہی نہیں آتا تھا۔جب حاضر ہوا۔تو آپ کسی مہمان سے گفتگو فرما کر اٹھے ہی تھے، مجھے دیکھ کر فرمایا۔ان دنوں میرے گھر سے اس قدر بیمار ہے ہیں۔کہ جب رات پڑتی تھی تو میں سجھتا تھا، شاید رات ختم ہونے سے پیشتر یہ اپنے مولیٰ کے حضور میں حاضر ہو جائیں گے اور جب دن چڑھتا تھا ، تو خیال آتا۔شاید دن غروب ہونے سے پہلے یہ حادثہ پیش | آ جائے گا، میری اپنی حالت تو آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔مگر آپ تسلی رکھیں۔میں انشاء اللہ دیکھوں گا ضرور اس کے بعد میں واپس آ گیا۔ہفتہ عشرہ کے بعد میں نے لکھا۔کہ حضور ! اگر کا تب کو مسودہ جلد نہ دیا گیا۔تو جلسہ سالانہ تک اس کتاب کا تیار ہونا مشکل ہو جائے گا۔میری اس عرضداشت پر ابھی چند روز ہی گزرے تھے کہ آپ نے از راہ نوازش وہ پیش لفظ لکھ کر بھیج دیا۔جو اس کتاب کی زینت بن وو