حیاتِ نور — Page v
نحمده ونصلى ع رسول الحرفي عرض حال احمد لله ثم احمد اللہ کہ حیات طیبہ یعنی سوانح حیات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو احباب کی خدمت میں پیش کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے حیات نور یعنی سیرت و سوانح حضرت خلیفہ مسیح الاول لکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔یہ کتاب کو میرے اندازے سے زیادہ یتیم ہوگئی ہے۔مگر میں نے سوچا کہ حضرت فضل عمر مصلح موعود اور پسر موعود کا مبارک زمانہ ہے اور ابھی تک خدا تعالیٰ کے فضل سے متعدد جلیل القدر صحابہ بھی موجود ہیں اور حضرت خلیفہ ایسیح سید نا نور الدین کا زمانہ پانے والے احباب تو سینکڑوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں ، اس لئے اس کتاب میں میں نے سوانح کے ساتھ ساتھ سیرت کے حصہ کو بھی شامل کر لیا۔کیونکہ اس زمانہ میں آپ کی سیرت کے واقعات کا جمع کرنا آسان تھا، اب اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی۔تو انشاء اللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت پر بھی ایک کتاب لکھوں گا۔تاکہ ”حیات طیبہ“ بھی دونوں پہلوؤں کے لحاظ سے مکمل ہو جائے۔افسوس ہے کہ اس کتاب کی اشاعت سے قبل قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا وصال ہو گیا۔فاناللہ وانا الیہ راجعون۔”حیات طیبہ" کی تصنیف کے ہر مرحلہ پر میں آپ سے برابر استصواب کرتا رہا۔اور مجھے فخر ہے کہ اس کتاب کو حضرت قمر الانبیاء نے دومرتبہ پڑھا۔پہلی مرتبہ سرسری طور پر اور جب دوسرا ایڈیشن نکلا۔تو گہری نظر سے، اور پھر دو قسطوں میں باوجود بیماری کے اپنے دست مبارک سے تحریر فرما کر اپنے نہایت ہی قیمتی مشوروں سے نوازا۔جنہیں انشاء اللہ تیسرے ایڈیشن میں پوری طرح مد نظر رکھا جائے گا۔اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار احسان ہے۔کہ اس نے مجھے حیات نور کا مسودہ بھی حضور کی خدمت میں لے ”حیات طیہ " کواللہ تعالیٰ نے اس قدر قبولیت عطا فرمائی ہے۔کہ اب تک احباب کی طرف سے اظہار خوشنودی پر مشتمل مخطوط آرہے ہیں اور بنگلہ زبان میں اس کا ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔فالحمد للہ علی ذلک ه