حیاتِ نور — Page 28
اول قبولیت دعا کا اثر ۲۸ اس روٹی کے انتظام اور دعا کے بعد آپ پر تکلف لباس میں سیدھے حکیم صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے۔حکیم صاحب نے دیکھتے ہی فرمایا: آپ اس وقت آئے اور بے اجازت چلے گئے۔یہ شاگردوں کا کام ہے؟ آئندہ تم روٹی ہمارے ساتھ کھایا کرو۔اور یہیں رہو یا جہاں ٹھہرے ہو وہاں رہو مگر روٹی یہاں کھایا کرو۔آپ فرماتے ہیں: میں نے کچھ عذر معذرت کے بعد حکیم صاحب کی یہ پیشکش منظور کر لی۔پھر حکیم صاحب نے فرمایا۔طب کہاں تک پڑھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا افلاطون کے برابر۔حالانکہ مجھے قطعا خبر نہ تھی کہ افلاطون کوئی حکیم ہے یا طبیب۔آپ نے ہنس کر فرمایا کچھ تو ضرور ہی پڑھ لو گے۔اگر کسی چھوٹے کا نام لیتے تو میرے دل کو بہت صدمہ پہنچتا کیونکہ ہر ایک انسان اپنی غایت مطلوب تک نہیں پہنچتا۔اس کے بعد حکیم صاحب نے آپ کو نفیسی اور اس کا علمی حصہ پڑھانا شروع کر دیا مگر آپ سارے دن میں ایک سبق پر کیسے مطمئن ہو سکتے تھے۔ادھر ادھر پھرنا شروع کیا مگر کوئی جگہ آپ کو پسند نہ آئی۔البتہ مولوی فضل اللہ فرنگی محلی سے آپ نے ملاحسن اور حمد اللہ پڑھنی شروع کر دی۔مگر چند ہی اسباق کے بعد سوچا کہ اگر چھ سات سبق روز نہ ہوں تو یونہی عمر کا ضیاع ہے یہ سوچکر آپ حکیم صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تارخصت حاصل کر کے واپس رام پور چلے جائیں۔دوباره عزم رامپور آپ فرماتے ہیں: لیکن قدرت خداوندی کے کیا تماشے ہیں کہ میری اس ادھیٹر بن کے وقت حکیم صاحب کے نام نواب کلب علیخاں نواب رام پور کا تار آیا تھا کہ آپ ملازمت اختیار کر لیں۔علی بخش نام ان کے ایک چہیتے خدمت گار علیل ہیں۔ان کا آکر علاج کریں۔دو پہر کے بعد ظہر کی نماز پڑھ کر میں وہاں حاضر ہوا۔اپنے منشاء کا اظہار کر کے عرض کیا کہ اب میں رامپور جانا چاہتا ہوں۔حکیم صاحب نے فرمایا