حیاتِ نور

by Other Authors

Page 29 of 831

حیاتِ نور — Page 29

رو ۲۹ تم یہ بتاؤ مجھ جیسے آدمی کو ملازمت اچھی ہے یا آزادی سے علاج کرنا۔چار سو روپیہ کے قریب یہاں شہر میں آمدنی ہوتی ہے۔کیا اس آمدنی کو چھوڑ کر ملازمت اختیار کریں۔تمہارے خیال میں یہ پھلی بات ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نوکری آپ کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ موجودہ حالت میں اگر آپ کے حضور کوئی شخص اپنے پہلو پائرین کو کھجلانے لگے تو آپ کو یہی خیال ہوگا کہ کچھ دینے لگا ہے۔اس پر وہ بہت قہقہہ مار کر ہنسے اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے دل میں یہ ڈال دیا۔یہ بھی اس شخص کے تصرفات کی کوئی بات ہے۔غرض ہمار کی ولایت کا وہاں سکہ بیٹھ گیا۔پھر وہ تار نکالا اور کہا۔کیا یہ آپ کے رام پور جانے کی ترکیب نہیں ؟ طور کرتے ہیں اور آپ ساتھ چلیں۔غرض معا رامپور واپس آنے کی تیاری ہوئی۔رامپور پہنچ کر حکیم صاحب نے کہا کہ اس شخص کی صحت کے لئے تم دعا کرو۔میں نے کہا۔یہ بچتا نظر نہیں آتا اور مجھے اس کے لئے دعا کی طرف توجہ نہیں ہوتی اور بڑوں تو جہ دعا نہیں ہوسکتی۔اب یہ جینے یا مرے ہم تو رامپور پہنچ ہی گئے۔آخر علی بخش کا انتقال ہو گیا۔حکیم صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ اس (علی بخش) کے مرنے پر ہمارے شہر کے ایک حکیم ابراہیم صاحب ہیں ان کو دربار میں ہم پر ہنسی کا موقعہ ملا ہے۔میں خدا تعالی کی ہستی کا اقرار کرتا ہوں۔میرے منہ سے بیساختہ نکلا کہ اس مریض جیسا کوئی ان کے ہاتھ تے بھی مر رہے گا آپ کیوں گھبراتے ہیں۔قدرت النبی دیکھو نہ گمان نہ خیال، علی بخش کے بالمقابل ایک دوسرا خدمت گار نواب کا اسی بیماری میں گرفتار ہوا۔اور حکیم ابراہیم صاحب لکھنوی اس کے معالج تجویز ہوئے۔مریض کو ہرم کبد بھی تھا۔ایک دن اس کے منہ سے خون آیا۔معالج حکیم صاحب نے فرمایا کہ یہ بحرانی خون ہے اور ہم کو اس کی صحت کی بہت امید ہے۔ہمارے حکیم صاحب نے آکر ہیں امید ظاہر کی۔میں نے عرض کی کہ اب یہ مر گیا ہے۔خدا تعالی کے عجائبات ہیں۔انسان کی کیا مقدرت ہے۔وہ مریض مر گیا۔عوض معاونہ گلہ ندارد۔حکیم ابراہیم صاحب آئندہ تمسخرت باز آ گئے۔۴۷