حیاتِ نور — Page 27
سور ۲۷ تنگ نیست پائے مرالنگ نیست تب آپ پر تیسری دفعہ وجد کی حالت طاری ہوئی اور فرمایا کہ ہم نے قسم توڑ دی۔اس کے بعد حکیم صاحب تو گھر کو تشریف لے گئے اور وہ لوگ جو مختلف اغراض اور بیماروں کے لئے آئے تھے۔اپنی اپنی جگہ چلے گئے۔میں نے بھی تنہائی کو غنیمت سمجھ کر اپنا بوریا بندھنا سنبھالا اور اس مکان سے باہر نکلا۔میرے بھائی صاحب کے دوست علی بخش خاں مرحوم مطبع علوی کے مالک تھے۔ان کے مکان پر پہنچا وہاں میں نے بڑا آرام پایا ، کیا۔کپڑے بدلے۔خانصاحب نے انار کا ایک خوبصورت درخت دکھایا۔جو اُن کے مطبع والے مکان میں تھا اور فرمایا کہ یہ تمہارے بھائی کی یادگار ہے۔وہاں آرام پا کر میں مختلف علماء سے جولکھنو میں تھے ملا اور عجیب عجیب باتیں سننے میں آئیں۔روٹی پکانے کی کوشش آپ فرماتے ہیں: آخر علی بخش خاں نے مجھے ایک مکان دیا اور وہاں کھانے کا انتظام مجھے خود کرنا پڑا جیسے کہ میں کہہ چکا ہوں، حرفہ کے لئے میرے دماغ میں کوئی بناوٹ نہیں۔اپنی روٹی پکانے کے لئے ایک منطق سے کام لینے لگا۔چولہے میں آگ جلائی۔تو ار کھا اور روٹی گول بنانے کی یہ ترکیب سوجھی کہ آٹے کو بہت پتلا گھول لیا اور اور ایک برتن کے ذریعہ اس گرم توے پر بلاگھی اور خشکے کے خوبصورت دائرہ کی طرح آٹا ڈال دیا۔جب اس کا نصف حصہ پک گیا تو پلٹنے کے لئے روٹی کو اُٹھانے کی فضول کوششیں کیں۔ان کوششوں میں روٹی اوپر تک پک چکی تھی۔خیالی فلسفہ نے توے کو اُتار کر آگ کے سامنے رکھوایا۔جب عمدہ طور پر اوپر کا حصہ پختہ نظر آیا تو چاقو سے اُتارنے کی ٹھہری۔مگر چاقو کے ذریعہ اُترنے سے بھی اس نے انکار کیا اور مجھے دعا کی توفیق ملی۔اس مکان سے باہر نکل کر آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر یوں دعا مانگنے لگا۔اے کریم مولا! ایک نادان کے کام سپر د کرنا اپنے بنائے ہوئے رزق کو ضائع کرنا ہے۔یہ کس لائق ہے جس کے سپر د روٹی پکانا کیا گیا“۔۲۵