حیاتِ نور — Page 429
ات تُو ـور ۴۲۵ تقریر کے لئے اڑھائی بجے بعد دو پہر سے لے کر ساڑھے تین بجے تک کا وقت مقرر کیا تھا اور اس سے غالبا ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ خلیفہ وقت کی تقریر انجمن کے انتظام کے ماتحت کروانا چاہتے تھے لیکن حضرت خلیفہ المسیح نے اُن کے پروگرام کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پونے دو بجے تقریر شروع فرمائی اور ساڑھے چار بجے تک تقریر فرماتے رہے۔اس تقریر میں حضور نے اپنی زندگی کی ایک تاریخ بیان فرمائی اور بتایا کہ کس طرح لا الہ الا اللہ سے میری تعلیم شروع ہوئی اور پھر کیونکر میں نے اس میں ترقی کی۔آپ نے دُعا، عقد ہمت، قرآن، اجتماع اور اس کے برکات کی طرف خصویت سے توجہ دلائی۔اور آخر میں قرآن کریم کی آیت ان الله المصري من المؤمنين السمر در اموالھر کی تغیر فرماتے ہوئے ایمان اور اس کے ستر شعبوں کو قرآن وحدیث سے بالتفصیل بیان کیا۔وانفسهم اس تقریر میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ گر زن گزٹ ایک اخبار ہے جو دہلی سے نکلتا ہے۔اس نے جہاں حضرت صاحب کی وفات کا ذکر کیا وہاں ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ اب مرزائیوں میں کیا رہ گیا ہے۔ان کا سرکٹ چکا ہے۔ایک شخص جوان کا امام بنا ہے اس سے اور تو کچھ ہو گا نہیں۔ہاں یہ ہے کہ وہ تمہیں کسی مسجد میں قرآن سنایا کرے۔سوخدا کرے یہی ہو کہ میں تمہیں قرآن ہی سنایا کروں“۔سبحان اللہ ! اعتراض کا جواب بھی دیا تو کس شان سے کہ خدا کرے۔۔۔میں تمہیں قرآن ہی سنایا کروں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قرآن کے سوا اور ہے کیا جس کی تعلیم کی ضرورت ہو۔دوسری تقریر آپ کی ۲۸ دسمبر کو ظہر وعصر کی نمازوں کے بعد شروع ہوئی۔حضور نے یہ تقریر محبت الہی کے موضوع پر فرمائی۔آپ نے پہلے یہ بتایا کہ محبت کیا چیز ہے اور پھر اس کے مختلف مدارج کی تفصیل بیان کی اور فرمایا۔اصل محبت کا مستحق وہ ہے جو حسن و احسان میں سب سے بڑھ کر ہے اور جس کا حسن کمال اور جس کا احسان بقا رکھتا ہے۔حضور کی یہ تقریر حُب کے زیر عنوان بدر مورخہ ۱۴ / جنوری 1909ء میں درج ہے اور حقائق و معارف کا ایک لاجواب گنجینہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک رویا میں آپ کی خلافت کی خبر الحکم لکھتا ہے کہ اسی جلسہ سالانہ میں مغرب و عشاء کی نماز کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب