حیاتِ نور — Page 428
۴۲۴ کروں۔نمازوں کے اوقات تو مقرر ہیں۔باقی امور کے لئے جو جس وقت پیش آئے۔قومی درد ایسا بڑھ گیا ہے کہ کہاں حیدر آباد دکن۔وہاں سیلاب آیا۔جماعت کے لئے ایسے مضطرب ہوئے کہ متواتر تاریں خیریت احباب کے لئے دیں۔آخر ایک آدمی خاص اسی غرض کے لئے بھیجا۔ان حالات کو معلوم کر کے عام افراد کو کیسی خوشی اور کیسا اطمینان ہو گا کہ خدا تعالیٰ نے فی الحقیقت انہیں بہترین انسان بعد امام عطا فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں برکت دے۔اور بہت مدت تک ہم اس کے زیر سایہ رہ کر اس کے فضل اور فیض کو حاصل کریں، جو نورالدین میں ہو کر ہم پر اتر رہا ہے۔آمین۔یہ مختصر حالات آپ کے مشاغل کے ہیں۔اندرونی زندگی کا پہلو پھر کسی وقت دکھایا جائے گا۔نماز میں خصوصیت سے دعا کرتے ہیں۔عید کے دن عید کے خطبہ میں اتفاقاً ہم نے سنا ہے کہ کہا۔قوم کے لئے ترقی ہو، ان میں استقامت ہو۔باہمی الفت ہو۔قوم خادم دین ہو۔روح القدس سے مؤید ہو۔آفات ارضیہ وسمادیہ سے محفوظ رہیں۔بلیات روحانیہ وجسمانیہ سے الہی تیری حفظ میں ہوں۔مظفر و منصور رہیں۔ان میں مخلص اور داعی الہی علی بصیرة خطیب و وعاظ پیدا ہوں۔اُن کے قائد دینِ اسلام کے واقف، دین اسلام کے عامل ، منشرح الصدر ہوں۔ان کے وزراء مخلص عاقبت اندیش ہوں۔"جمعہ میں بعد الجمعہ تا مغرب خصوصیت سے ایسی دعاؤں میں وقت گزرتا ہے یہ ان دعاؤں کا ایک مختصر حصہ ہے جو جماعت کے لئے مانگتے ہیں اور خدا جانے کس کس رنگ میں یہ چوپان قوم رات کی اندھیری اور تنہا گھڑیوں میں جبکہ ہم میں سے ہر ایک آرام سے سوتا ہے اپنے مولا کے حضور ہمارے لئے چلاتا ہے۔خدا اس کی دعاؤں میں قبولیت کا اثر پیدا کرے اور ہم ان سے متمتع ہوں۔آمین۔" جلسہ سالانہ ۱۹۰۸ء میں آپ کی تقریر ۲۶ دسمبر ۱۹۰۸ء کو یعنی جلسہ سالانہ کے دوسرے اجلاس میں صدر انجمن احمدیہ نے آپ کی ـور