حیاتِ نور

by Other Authors

Page 430 of 831

حیاتِ نور — Page 430

۴۲۶ (یعنی سید نا امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے حجتہ اللہ مسیح موعود علیہ السلام کی ایک رویا سنائی جس سے ثابت ہوا کہ حضرت اقدس کی وفات کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب ہی خلیفہ المسیح ہونے والے تھے۔۱۳ یتامی ، مساکین اور طالبعلموں کے لئے ایک تحریک ۲۱ ؍ جنوری ۱۹۰۹ء حضرت خلیفہ المسیح الاول کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جہاں کہیں رہے یامی مساکین اور طالب علموں کے لئے طاء مادی بن کر رہے اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک عظیم الشان قوم کا امام بنایا آپ اس اہم کام سے کیونکر غفلت برت سکتے تھے۔آپ نے اس امر کو مد نظر رکھ کر مولوی محمد علی صاحب سیکریٹری صدر انجمن احمدیہ کو ارشاد فرمایا کہ بیتامی ، مساکین اور طالب علموں کے لئے جماعت میں چندہ کی تحریک کی جائے۔اس پر جناب مولوی صاحب نے جو تحریک کی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قریب چار ہزار روپے کی رقم تو ان تمامی ، مساکین اور طالب علموں وغیرہ کے گزارہ کے لئے چاہئے جو اس وقت المجمن کے انتظام کے نیچے اس امداد کے مستحق ہیں۔اور اکیس سو روپے کی رقم ان یتامی ، مساکین وغیرہ کے ایک سال سے گزارہ کے لئے چاہیے جن کی درخواستیں آئی ہوئی ہیں اور گو اس روپے کا بالفعل کوئی اندازہ پیش نہیں کیا جا سکتا جو آئندہ درخواست کنندگان کے لئے درکار ہوگا مگر یہ ظاہر ہے کہ کچھ نہ کچھ گنجائش اور بھی ہونی چاہئے۔پس مجھے ارشاد ہوا ہے کہ میں ان سب کے لئے تمام احمدی احباب کی خدمت میں اپیل کروں۔اور ہے کہ اکیس سوروپے کی رقم میں ایک سو روپیہ خودحضرت علیہ اسی نے اپنی طرف سے دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔مدرسہ کے چھوٹے بچوں کو بعض نہایت ہی مفید اور اہم نصائح ۲۳ جنوری ۱۹۰۹ء چ پوچھو تو حضرت خلیفہ اسی الاول کا زمانہ جماعت کے مردوں، عورتوں اور بچوں کی تربیت کیلئے ایک نہایت ہی اہم زمانہ تھا۔آپ کو ہر وقت اس امر کی فکر رہتی تھی کہ حضرت احمد علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت صحیح معنوں میں ایک نبی کی جماعت کہلا سکے۔چنانچہ آپ کے دربار میں ہر وقت ہی وعظ و نصیحت اور دعاؤں کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ایسی ہی ایک مجلس ۲۳ / جنوری ۱۹۰۹ ء کو بعد از نماز مطرب مسجد مبارک میں منعقد ہوئی۔اس میں آپ نے مدرسہ کے چھوٹے بچوں کو مخاطب کر کے فرمایا: