حیاتِ نور — Page 21
ور میں نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ آپ محلہ کے لڑکے ہمارے سپرد کر دیں۔انہوں نے کہا یہ بھی نہ ہوگا۔پھر میں نے کہا ہم کو کتابوں اور استادوں کی فکر ہے۔انہوں نے کہا میں مدد دوں گا۔فجزاہ اللہ خیرا۔انہوں نے ایک سال اپنے اس معاہدہ پر بڑی عمدگی سے گزارا۔رحمہ اللہ تعالیٰ۔۳۸ اس انتظام کوتسلی بخش پا کر آپ نے اس محنت سے تعلیم حاصل کرنا شروع کی کہ تھوڑے ہی عرصہ میں خاصی قابلیت پیدا کر لی۔ایک علمی مباحثہ میں آپ کی کامیابی ایک دن بہت سے طالبعلم اکٹھے ہو کر ایک جگہ آپس میں مباحثہ کر رہے تھے جو سوال زیر بحث تھا۔آپ نے جب اس پر غور کیا تو آپ کے ذہن میں ایک ایسا جواب آیا جسے آپ کافی سمجھتے تھے۔انچہ آپ نے بلند آواز سے کہا کہ میں اس سوال کا جواب دیتا ہوں۔اس پر آپ کی سادہ وضع قطع کو دیکھ کر بہت سے طالبعلموں نے یہ سمجھ کر کہ یہ کیا جواب دے گا آپ کی ہنسی اڑائی مگر پنجابی طالبعلموں نے کہا کہ جواب سن لینے میں کیا مضائقہ ہے؟ جب وہ جواب سننے پر آمادہ ہو گئے تو آپ نے فرمایا کسی مشہور نحوی کو حکم مقرر کرو۔چنانچہ ایک بزرگ مولوی غلام نبی صاحب حکم مقرر کئے گئے۔انہوں نے جب آپ کا جواب سنا تو بہت ہی خوش ہوئے اور آپ کو مولوی کے لفظ سے خطاب فرمایا۔آ۔فرماتے ہیں کہ اس وقت مجھ کو اپنے متعلق ” مولوی جی سننے سے بھی بہت خوشی ہوئی۔اس کے بعد آپ نے ملاحسن ،مشکوۃ ، اصول شاشی ،شرح وقایہ اور میذی مختلف استادوں سے پڑھنا شروع کیں۔اس زمانہ کے طریقہ تعلیم اور عربی نصاب پر تبصرہ اُس زمانہ کے طریقہ تعلیم اور عربی نصاب پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ یہاں آکر مجھے اتنا افسوس ہوا کرتا ہے کہ اگر ہندوستان کے مسلمان تعلیمی درسی کتابیں سوچ سمجھ کر مقرر کیا کریں اور پھر ان کے امتحان بھی ہوا کریں اور اس بات کوملحوظ رکھا جائے کہ طالب علم دین ودنیا دونوں میں ترقی کر سکیں تو قوم پر کتنا بڑا احسان ہو۔الگ الگ درسگاہیں بڑی دقت میں ڈالتی ہیں۔سب سے بڑی وقت جو مجھ کو محسوس ہوئی یہ ہے کہ نہ تو استاد صلاح دیتے ہیں کہ کیا پڑھنا چاہئے