حیاتِ نور

by Other Authors

Page 22 of 831

حیاتِ نور — Page 22

اول ۲۲ اور نہ طالب علم اپنی حسب منشاء آزادی کے ساتھ اپنے ان قومی کے متعلق جو خدا تعالیٰ نے عطا کئے ہیں کسی کتاب کے انتخاب کرنے کی جرات کر سکتا ہے۔نیز اخلاق فاضلہ کی تعلیم و تاکید نہیں ہوتی۔میں اپنی تحقیق سے کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں کسی استاد میں یہ بات نہ دیکھی۔ان باتوں کا رنج مجھے اب تک بھی ہے۔کس قدر رنج ہوتا ہے جبکہ میں غور کرتا ہوں کہ اس وقت ہمارے افعال، اقوال، عادات، اخلاق پر بھی ہمارے معلموں میں سے کسی نے نوٹس نہ لیا بلکہ عقائد کے متعلق بھی بھی کچھ نہ کہا۔مجھےتو یہ بھی یادہیں کہ مشکوۃ میں ہی ہمارے اخلاق پر توجہ دلائی گئی ہو۔ہے ایک بزرگ شاہ جی عبدالرزاق صاحب سے ملاقات رام پور میں ایک بزرگ شاہ جی عبد الرزاق صاحب رہا کرتے تھے۔آپ اکثر ان کے ہاں جایا کرتے تھے۔ایک مرتبہ جو چند دن کے وقفہ کے بعد گئے تو فرمایا کہ ”نورالدین! آپ اتنے دن کہاں رہے۔عرض کیا۔حضرت ! ہم طالب علموں کو اپنے درس تدریس کے اشغال سے فرصت نہیں ملتی۔کچھ مجھ سے سستی بھی ہوئی۔فرمایا کبھی تم نے قصاب کی دکان بھی دیکھی ہے؟ عرض کیا اکثر اتفاق ہوا ہے۔فرمایا تم نے دیکھا ہوگا کہ گوشت کاٹتے کاٹتے جب اس کی چھریاں گند ہو جاتی ہیں تو وہ اُن کو تیز کرنے اور ان کی چربی اُتارنے کے لئے انہیں آپس میں رگڑتا ہے۔عرض کیا کہ حضرت! اس سے آپ کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا بس یہی کہ عدم ملاقات سے کچھ تم پر غفلت طاری ہو جاتی ہے کچھ مجھ پر۔اور ملاقات کے موقعہ پر ہم پھر تیز ہو جاتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: ان کی اس بات نے مجھے بہت ہی بڑے فائدے پہنچائے اور ہمیشہ مجھ کو یہ خواہش رہی کہ نیک لوگوں کے پاس آدمی کو جا کر ضرور بیٹھنا چاہئے۔اس سے بڑی بڑی مستیاں دور ہو جاتی ہیں۔"