حیاتِ نور — Page 20
اول ایک بزرگ کی نصیحت آپ فرماتے ہیں: میں سفر میں جانے لگا تو ایک بزرگ کی بات یاد آئی جس نے کہا کہ جس شہر میں جاؤ وہاں چار شخصوں یعنی ایک وہاں کے پولیس آفیسر ایک طبیب، ایک اہل دل اور ایک امیر سے ضرور ملاقات رکھنا اور جس شہر میں یہ چاروں نہ ہوں۔وہاں جانا نہ چاہئے“۔رام پور اور لکھنو کا عزم اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ آپ نے ایک طالب علم کی ترغیب پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے رام پور جانے کا ارادہ کر لیا تھا۔لاہور سے تین طالبعلموں کا مختصر سا قافلہ ایک کو امیر بنا کر پیدل عازم سفر ہوا۔اور صعوبات سفر برداشت کرتا ہوا کافی دنوں کے بعد رام پور پہنچا۔وہاں کوئی واقفیت تو تھی ہی نہیں۔ایک ویران سی مسجد میں تینوں نے جا کر ڈیرہ لگا لیا۔ایک سات آٹھ سال کی لڑکی دو دن صبح و شام کھانا لا ئی تیسرے دن کھانا لاتے ہی کہا کہ میری اماں کہتی ہے کہ آپ دعا کریں میرا خاوند میری طرف توجہ کرے۔آپ فرماتے ہیں میں نے اس کے خاوند کے پاس پہنچ کر اپنی طاقت کے موافق اُسے خوب سمجھایا۔" جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس شخص نے اپنی بیوی کو رعایت سے بلا یا اور مجھ کو جناب الہی کے حضور شکر کا موقعہ ملا۔۳۷ حافظ عبدالحق صاحب سے ملاقات اب آپ کو فکر تھی مناسب مقام پر قیام کی اور حصول تعلیم کے لئے اُستادوں کی۔سو ان دونوں امور کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو انتظام کیا۔اس امر کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ اسی دن شام کے قریب میں اکیلا پنجابیوں کے محلہ کی ایک گلی میں ہو کر گزرا۔وہاں ایک شخص حافظ عبدالحق راستہ میں مجھ کو ملے۔انہوں نے فرمایا کہ آپ میری مسجد میں آکر رہیں۔میں نے کہا میں اکیلا نہیں ہوں ہم تین آدمی ہیں۔انہوں نے تینوں کی ذمہ داری اٹھائی۔تب میں نے کہا ہم پڑھنے آئے ہیں ایسا نہ ہو کہ ہم لوگوں کے گھر روٹیاں مانگتے پھریں۔انہوں نے کہا ایسا نہ ہوگا۔پھر