حیاتِ نور — Page 286
ــاتِ نُسـ PAY شروع ہو گیا اور حضرت اقدس کافی دیر تک جوابات دیتے رہے۔لودھیا نہ میں آپ کا وعظ ۴ رنومبر ۱۹۰۵ء یه مقدس قافله ۴ رنومبر ۱۹۰۵ء کو دہلی سے روانہ ہو کر لو دھیانہ پہنچا۔ایک ہزار کے قریب آدمی حضرت اقدس کے استقبال اور زیارت کے لئے اسٹیشن پر موجود تھا۔لودھیانہ کے احباب نے حضور اور حضور کے خدام کی رہائش کے لئے بہت عمدہ انتظام کر رکھا تھا۔چونکہ صدہا لوگوں کی آمدرفت کا تانتا بندھا ہوا تھا حضرت اقدس نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر اسی روز شام کے وقت حضرت مولوی صاحب کو تقریر کے لئے ارشاد فرمایا۔چنانچہ آپ نے تربیتی اور اصلاحی پہلوؤں پر مشتمل ایک جامع اور مؤثر تقریر فرمائی۔اور سامعین بہت محظوظ ہوئے۔ولادت میاں عبد السلام صاحب ۲۵ / دسمبر ۱۹۰۵ء حضرت مولوی صاحب کے صاحبزادہ میاں عبدالقیوم کی وفات پر جس کا پیچھے ذکر ہو چکا ہے مخالفوں نے بہت شور مچایا مگر مومنوں نے صبر کے ساتھ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر نعم البدل کی دعائیں کیں۔الحمد للہ کہ اس نے محض اپنے فضل و کرم سے مورخہ ۲۵ ؍دسمبر ۱۹۰۵ء کو حضرت مولوی صاحب کو ایک لڑکا عطا فرمایا جس کا نام حضرت اقدس نے عبد السلام رکھا۔محترم جناب حکیم محمد صدیق صاحب سکنه میانی متصل بھیرہ حال محلہ دار الرحمت ربوہ کا بیان ہے ایک دفعہ حضرت خلیفہ امسح الاول مسجد اقصیٰ میں قرآن کریم کا درس دے رہے تھے۔کافی لوگ جمع تھے۔میاں عبدالسلام صاحب جو ہنوز بچہ ہی تھے۔چار پانچ سال کی عمر ہوگی ، پیچھے سے آئے اور آپ کے کندھوں پر سوار ہو گئے۔پکڑی گرادی۔کبھی حضرت خلیفہ اول کو دائیں طرف جھکانے کی کوشش کرتے کبھی بائیں طرف۔حضرت خلیفہ اول اسے خوش کرنے کے لئے جھک جاتے اور ساتھ ساتھ فرماتے جاتے کہ ہاں! ہمیں معلوم ہو گیا ہمارا بچہ آ گیا۔ہاں! ہمیں معلوم ہو گیا ہمارا بچہ آ گیا۔البدرہ جنوری 191 ء حاشیہ۔میاں عبد السلام صاحب عمر ۲۴ ۲۵ مارچ ۵۶ کی درمیانی شب ڈیڑھ بجے کے قریب لاہور میں انتقال فرما گئے۔وفات کے وقت آپ کی عمر قریبا 21 سال تھی۔۲۵ مارچ کو آپ کی نعش مقبرہ بہشتی (ربوہ) میں چار دیواری کے اندر دفن کی گئی۔فانا اللہ وانا الیہ راجعون