حیاتِ نور

by Other Authors

Page 287 of 831

حیاتِ نور — Page 287

۲۸۷ غور فرمائیے کہ آپ اس بچہ سے کس قدر پیار کرتے تھے لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مبشر اولاد کے ساتھ مقابلہ کا سوال پیدا ہوا تو آپ نے اس کی ذرہ پروا نہیں کی۔چنانچہ حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں: ایک واقعہ بھی یاد آ گیا۔آپ کے صاحبزادے میاں عبدالسلام مرحوم چھوٹے بچے تھے۔میں جب پڑھنے کو روز صبح جاتی تو ان کے لئے جیب میں بادام، اخروٹ وغیرہ لے جاتی اور جیسا کہ بچوں کے کھیل ہوتے ہیں۔روز ہی پہلے ان سے پوچھتی کہ بتاؤ عبد السلام! تم کتنے اخروٹ کے نوکر ہو؟ وہ روز جواب دیتے۔دو اخروٹ کا نوکر ہوں۔ایک دن میاں عبدالحی مرحوم نے غصے سے کہا کہ عبد السلام ! نوکر کیوں کہتے ہو۔تم کوئی نوکر ہو؟ کہہ دو میں نوکر نہیں ہوں۔اندر کمرے میں حضرت خلیفہ اول سن رہے تھے نہایت جوش سے کڑک کر فر مایا۔عبدالحی ! یہ کیا کہا تم نے ؟ یہ نوکر ہے۔اور فرمایا۔عبد السلام ! اندر آؤ ہم دونوں اندر چلے گئے۔فرمایا کہو میرے سامنے میں نوکر ہوں۔بچہ نے دو ہرا دیا۔اس جذبہ کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں۔جو حضرت خلیفہ اول کی طبیعت سے واقف، آپ کی صحبت میں رہ چکے یا آپ کی سیرت کا مطالعہ کر چکے ہیں۔وہ کوہ وقار تھے، غیور تھے ،خوددار تھے۔ان کا سر بھی کسی کے سامنے نہ جھکا، جھکا تو اپنے محبوب آقا کے سامنے۔اور اسی عشق کامل کا نتیجہ تھا کہ ایک کم عمر لڑکی جو ان کی شاگرد بھی تھی۔اس کے لئے بھی اپنے پیارے لڑکے کا اتنا کہنا کہ کہو میں نو کر نہیں ہوں، سخت ناگوار گزرا۔آپ کا چہرہ مجھے ابتک یاد ہے، ایسا اثر تھا کہ صرف غصہ اور ناگواری ہی نہیں بلکہ بہت صدمہ گزرا ہے۔حالانکہ جیسا وہ والدین کی مانند بے انتہا لاڈ پیار مجھ سے کرتے تھے ، بے تکلف تھے۔ان کا حق تھا۔وہ بآسانی مجھے بھی کہہ سکتے تھے، سمجھا سکتے تھے کہ بچہ سے ایسا نہیں کہلواتے ، ذلیل ہو جاتا ہے عزت نفس نہیں رہتی۔تم اس کو جو چاہو ویسے ہی دے دیا کرو۔مجھے بھی آپ کا روکنا ذرا بھی برا معلوم نہ ہوتا۔کیونکہ ان کی محبت کا پلڑا بہت بھاری تھا۔مگر انہوں نے اپنے طبعی وقار کے خلاف صرف اپنے