حیاتِ نور — Page 9
Q از مذاهب مذہب دہقاں قومی اے مولوی وہ اکثر فرمایا کرتی تھیں مذہب دہقاں چه باشد هر چه کشتی پد روی جو آگ کھائے گا انگارے بگے گا۔کلا آپ کے بچپن کے چند واقعات آپ کو بچپن ہی سے گالی گلوچ سے بالطبع نفرت تھی۔فرماتے ہیں: ”میرے سامنے میرے ساتھ کھیلنے والے لڑکوں نے کبھی کوئی گالی نہیں دی بلکہ مجھے کو دُور سے دیکھ کر آپس میں کہا کرتے تھے کہ یارو مسنبھل کر بولنا، ۱۸ ایک مرتبہ جبکہ میں بچہ تھا۔ایک مولوی نے کہا کہ تم بھی ختم میں چلو۔میں چلا گیا۔وہاں لوگ قرآن شریف پڑھ رہے تھے۔میں نے بھی ایک سیپارہ لیا۔ابھی میں نے آدھا ہی پڑھا تھا کہ بعض نے دو بعض نے چار پڑھ لئے۔قریب سے ایک نے غصہ کے ساتھ مجھ سے سپارہ لیا اور کہا تم نہیں جانتے لاؤ! میں پڑھوں۔اس نے لے کر دیسے ہی ورق الٹنے شروع کر دیے اور جھٹ سیپارہ ختم کر کے رکھ دیا۔19 مجھے کو بچھنے میں شوق تھا کہ اس دریا ( جہلمہ۔ناقل ) پر جو ہمارے شہر ( بھیرہ) کے قریب ہے جا کر بہت تیرتا تھا۔میں نے سردیوں کے موسم میں اس دریا کے قریب ایک فقیر کو ننگے بدن صرف ایک کھال کے اوپر بیٹھے ہوئے دیکھا۔میں اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور اس سے دریافت کیا کہ تم کو سردی کیوں نہیں معلوم ہوتی۔اس نے کہا کہ سنکھیا کھاتا ہوں اور اور بھی گرم چیزیں استعمال کرتا ہوں۔جلد پر راکھ ملتے ملتے ایک تہہ جم گئی ہے۔جلد کے مسامات بھی بند ہو گئے ہیں۔اس لئے سردی نہیں معلوم ہوتی۔اس قسم کے لوگوں کا خدا تعالیٰ کے حصول اور تقرب کے متعلق کوئی مدعا نہیں ہوتا کتابوں کا آپ کو بچپن ہی سے شوق تھا۔فرماتے ہیں مجھے کو اپنے سن تمیز سے بھی پہلے کتابوں کا شوق ہے۔بچپنے میں جلد کی خوبصورتی کے سبب کتابیں جمع کرتا تھا۔سن تمیز کے وقت میں نے کتابوں کا بڑا انتخاب کیا اور مفید کتابوں کے جمع کرنے میں بڑی کوشش کی۔