حیاتِ نور — Page 8
اپنی والدہ ماجدہ کا ذکر خیر اپنی والدہ ماجدہ کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ ” میری والدہ کو قرآن کریم پڑھانے کا بڑا ہی شوق تھا۔انہوں نے تیرہ برس کی عمر سے قرآن شریف پڑھانا شروع کیا چنانچہ ان کا یہ اثر ہے کہ ہم سب بھائیوں کو قرآن شریف سے بڑا ہی شوق رہا ہے"۔اپنی والدہ صاحبہ کے ذکر پر مزید فرمایا کہ ”میری ماں اللہ تعالیٰ اسے جنت میں بڑے بڑے درجات عطا کرے بہت سارے بچوں کی ماں تھیں مگر وہ کبھی نماز قضا نہ کرتیں۔ایک چادر پاک صاف صرف اس لئے رکھی ہوئی تھی کہ نماز کے وقت اسے اوڑھ لیتیں۔نماز پڑھ کر معا اور کھوٹی پر لٹکا دیتیں۔فقان حمید کا پڑھنا کبھی قضا نہ کیا بلکہ میں نے اپنی ماں کے پیٹ میں قرآن مجید سنا۔پھر گود میں سنا اور پھر ان سے ہی پڑھا“۔اور فرمایا کہ میری والدہ بڑی عظیم الشان تھی۔لوگ حسن عقیدت کے باعث یا دنیوی آرام یا دینی اغراض پر اپنی اولاد کو اُن کا دُودھ پلانے کے خواہشمند تھے۔اس لئے بہت لوگ ہمارے دودھ بھائی ہیں۔مولوی امام الدین، میاں غلام محی الدین تاجر کتب جہلم ان میں سے ہیں۔اپنی والدہ کا بیان فرمودہ ایک نکتہ فرمایا: اللہ تعالیٰ رحم کرے میری والدہ پر۔انہوں نے اپنی زبان میں عجیب عجیب طرح کے نکات قرآن مجھ کو بتائے۔منجملہ ان کے ایک یہ بات تھی کہ تم اللہ تعالیٰ کی جس قسم کی فرماں برداری کرو گے اس قسم کے انعامات پاؤ گے اور جس قسم کی نافرمانی کرو گے اسی قسم کی سزا پاؤ گے۔از مکافات عمل غافل مشو گندم از گندم بروید کو ز جو هل جزاء الاحسان الا الاحسان