حیاتِ نور

by Other Authors

Page 10 of 831

حیاتِ نور — Page 10

فرماتے ہیں: اول جب میں بچہ تھا تب مجھ کو ایک کتاب پڑھائی گئی تھی جس میں لکھا تھا کہ شب چوں عقد نماز بر بندم ☆ چه خورد با مداد فرزندم یہ کوئی ساتویں صدی کی بات ہے۔اب تو چودھویں صدی ہے۔میں کبھی اس آیت کو پڑھتا ہوں کہ الله الذی جعل لكم اليل لتسكنوا فيه والنهار مبصراً - ان الله لذو فضل على الناس ولكن اكثر الناس لا يشكرون اور پھر تعجب کے ساتھ اس شعر کو پڑھتا ہوں۔رات کے وقت بھی دنیا کے تفکرات کو نہ چھوڑنا فضول ہے۔مومن کو چاہئے کہ رات کو سکون کرے۔لاہور میں آمد اور بیماری ۱۸۵۳ء آپ کے بڑے بھائی مولوی سلطان احمد کا ایک مطبع قادری نام لاہور میں کا بلی مل کی حویلی میں تھا جس کی وجہ سے آپ کے بھائی صاحب کو اکثر لا ہور آنا پڑتا تھا۔اسی تعلق میں جب آپ کی عمر قریباً بارہ سال تھی آپ کو بھی اپنے بھائی کے ہمراہ لاہور آنا پڑا۔یہاں آ کر آپ مرض خناق سے بیمار ہو گئے اور حکیم غلام دستگیر لاہوری ساکن سید معجمہ کے علاج سے اللہ تعالیٰ نے شفا بخشی۔زمانہ طالب علمی حکیم صاحب کی طبعی شہرت کو دیکھ کر آپ کے دل میں طب پڑھنے کا شوق پیدا ہوالیکن آپ کے بھائی صاحب نے یہ سمجھ کر کہ فارسی کی تکمیل ضروری ہے آپ کو فارسی کے ایک مشہور استاد فنی محمد قاسم صاحب کشمیری کے سپرد کیا۔انہوں نے بڑی محنت اور مہربانی سے آپ کو مضامین رزمیہ اور بزمیر اور بہار یہ خوب لکھوائے اور پڑھائے۔اور گو اس زبان سے آپ کو بلحاظ دین اور ضرورت سلطنت کوئی دلچسپی نہ تھی مگر بہر حال اُستاد کی محنت سے آپ کو فارسی زبان سے واقفیت پیدا ہوگئی۔خوشنویسی کے لئے آپ ماہرفن مرزا امام ویردی کے سپرد کئے گئے اور گو ہین بھی آپ کی دلچسپی کا باعث نہ بن سکا مگر آپ کا خط کسی قدر سدھر گیا۔یہ دونوں اُستاد چونکہ شیعہ تھے اس لئے یہ فائدہ آپ کو ضرور پہنچا کہ آپ شیعہ مذہب سے آگاہ ہو گئے۔انہی منشی محمد قاسم صاحب کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ