حیاتِ نور

by Other Authors

Page 224 of 831

حیاتِ نور — Page 224

ــور ۲۲۴ ارم میں منتقل ہوا۔9 اگست ۹۷ کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور نے بذریعہ سمن حضرت اقدس کو اطلاع دی که ه ا ر ا گست ۹۷ کو بٹالہ میں پیش ہوں۔حضرت اقدس اپنے احباب سمیت ار اگست کو کچہری کے وقت سے پہلے بٹالہ پہنچ گئے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی عیسائیوں کی طرف سے حضرت اقدس کے خلاف بطور گواہ پیش ہونے کے لئے اپنے لاؤ لشکر سمیت احاطہ کچہری میں موجود تھے۔لیکن ان کی شہادت سے قبل حضرت خلیفہ المسیح الاول کی شہادت ہوئی۔راجہ غلام حیدر صاحب جو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مسٹر ڈگلس کے ریڈر تھے۔ان کا تحریری بیان ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شہادت سے قبل مولانا مولوی نورالدین صاحب کی شہادت ہوئی۔ان کی سادہ ہیئت یعنی ڈھیلی ڈھالی سی بندھی ہوئی پگڑی اور کرتے کا گریبان کھلا ہوا اور شہادت ادا کرنے کا طریق نہایت صاف اور سیدھا سادھا ایسا مؤثر تھا کہ خود صاحب ڈپٹی کمشنر بہت متاثر ہوئے اور کہا کہ خدا کی قسم ! اگر یہ شخص کہے کہ میں مسیح موعود ہوں تو میں پہلا شخص ہوں جو اس پر پورا پورا غور کرنے کے لئے تیار ہوں گا۔”مولوی نورالدین صاحب نے عدالت سے دریافت کیا کہ مجھے باہر جانے کی اجازت ہے یا اسی جگہ کمرہ کے اندر رہوں۔ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مولوی صاحب ! آپ کو اجازت ہے کہ جہاں آپ کا جی چاہے جائیں۔ان کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب کی شہادت ہوئی اور ان کے بعد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی شہادت کے لئے کمرہ عدالت میں داخل ہوئے اور دائیں بائیں دیکھا تو کوئی کرسی فالتو پڑی ہوئی نظر نہ آئی۔مولوی صاحب کے منہ سے جو پہلا لفظ نکلا وہ یہ تھا کہ حضور کری۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا مولوی صاحب کو حکام کے سامنے کرسی ملتی ہے؟ میں نے کرسی نشینوں کی فہرست صاحب کے سامنے پیش کردی اور کہا کہ اس میں مولوی محمد حسین صاحب یا ان کے والد بزرگوار کا نام تو درج نہیں لیکن جب کبھی حکام سے