حیاتِ نور — Page 223
صاحب، حضرت مولوی عبدالکریم صاحب، مکرم خواجہ کمال الدین صاحب اور جناب مولوی محمد علی صاحب بھی تھے۔تعلیم الاسلام سکول کی ضرورت اور حضرت مولوی صاحب کی خدمات ۱۵ ستمبر ۱۸۹۷ ء کو حضرت اقدس نے قادیان میں تعلیم الاسلام سکول کے نام سے اپنا مدرسہ جاری کرنے کا اعلان فرمایا۔اس کے لئے چونکہ سرمایہ کی ضرورت تھی اس لئے حضرت اقدس نے جب تحریک فرمائی تو سب سے اول آپ نے دس روپے ماہوار دینے کا وعدہ فرمایا۔پادری مارٹن کلارک والے مقدمہ میں آپ کی شہادت - ڈاکٹر کلارک والا مقدمہ ہماری جماعت میں مشہور ہے اس کی ابتدا یوں ہوئی تھی کہ قادیان دارالامان میں ایک نوجوان عبد الحمید نامی آیا۔اس نے اپنے آپ کو حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کا بھتیجا ظاہر کیا۔حضرت مولوی صاحب اس سے بملا طفت پیش آئے اور اسکی درخواست پر اُسے حضرت اقدس کی خدمت میں بیعت کے لئے پیش کیا۔حضور نے نور فراست سے کام لے کر اس کی بیعت نہ لی۔اس طرح پر وہ نامراد ہو کر قادیان سے چلا گیا۔بٹالہ اور امرتسر کے کئی پادریوں کے پاس سے ہوتا ہوا آخر پادری مارٹن کلارک کے پاس پہنچ گیا۔پادری مذکور نے دوسرے پادریوں کے ساتھ مل کر یہ سازش کی کہ عبدالحمید کو اس امر پر آمادہ کیا کہ وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کی عدالت میں یہ درخواست دے کہ (حضرت) مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے مجھے اس لئے امرتسر بھیجا ہے کہ میں پادری مارٹن کلارک صاحب کو پتھر مار کر ہلاک کردوں۔عبدالحمید نے درخواست دے دی اُس وقت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مسٹر مارٹینو تھا اُس نے ڈاکٹر کلارک اور عبد الحمید کا بیان لے کر حفظ امن کی ضمانت کے لئے حضرت اقدس کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر دیا۔اور میں ہزار کی دو ضمانتیں طلب کیں۔یہ واقعہ یکم اگست ۱۸۹۷ء کا ہے۔مگر عجیب تصرفات الہیہ ہیں کہ وہ وارنٹ پتہ نہیں کہاں گم ہو گیا۔گورا داسپور میں پہنچا ہی نہیں۔ایک ہفتہ کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کو اپنی اس غلطی کا احساس ہوا کہ اسے ایک غیر ضلع کے فرد کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار ہی حاصل نہیں۔تب اس نے مسٹر ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو بذریعہ تاریہ اطلاع دی کہ جو وارنٹ گرفتاری میں نے (حضرت) مرزا غلام احمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی گرفتاری کے لئے بھیجا ہے، اُسے روک دیا جائے۔وہ یہ معلوم کر کے حیران ہوا کہ اس ضلع میں تو کوئی ایسا وارنٹ پہنچا ہی نہیں۔۷ اگست ۷ء کو یہ مقدمہ گورداسپور