حیاتِ نور — Page 225
ـارم ۲۲۵ ملنے کا اتفاق ہوتا ہے تو بوجہ عالم دین یا ایک جماعت کا لیڈر ہونے کے وہ انہیں کرسی دید یا کرتے ہیں۔اس پر صاحب ڈپٹی کمشنر نے مولوی صاحب کو کہا کہ آپ کوئی سرکاری طور پر کرسی نشین نہیں ہیں آپ سیدھے کھڑے ہو جائیں * اور شہادت دیں۔تب مولوی صاحب نے کہا کہ میں جب کبھی لاٹ صاحب کے حضور جاتا ہوں تو مجھے کرسی پر بٹھایا جاتا ہے۔میں اہلحدیث کا سرغنہ ہوں۔تب صاحب ڈپٹی کمشنر نے گرم الفاظ میں ڈانٹا اور کہا کہ نج کے طور پر اگر لاٹ صاحب نے تم کو کرسی پر بٹھایا تو اس کے یہ معنی نہیں کہ عدالت میں بھی تمہیں کرسی دی جائے خیر شہادت شروع ہوئی تو مولوی صاحب نے جس قدر الزامات کسی شخص کی نسبت لگائے جاسکتے ہیں مرزا صاحب پر لگائے۔لیکن جب مولوی فضل دین صاحب وکیل حضرت مرزا صاحب نے جرح میں مولوی محمد حسین صاحب سے معافی مانگ کر اس قسم کا سوال کیا جس سے ان کی شرافت یا کیریکٹر پر دھبہ لگتا تھا تو سب حاضرین نے متعجبانہ طور پر دیکھا کہ جناب مرزا صاحب اپنی کرسی سے اُٹھے اور فرمایا کہ میری طرف سے اس قسم کا سوال کرنے کی نہ تو ہلایں ہمہ اور نہ اجازت ہے۔آپ اپنی ذمہ داری پر بہ اجازت عدالت اگر پوچھنا چاہیں۔تو آپ کو اختیار ہے۔قدرتی طور پر صاحب ڈپٹی کمشنر کو دلچپسی ہوئی اور انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا اس سوال کی بابت تم کو کچھ معلوم ہے۔میں نے جواب نفی میں دیا۔مگر کہا کہ اگر آپ معلوم کرنا چاہتے ہیں۔تو جب آپ لنچ کے لئے اٹھیں گے تو میں معلوم کرنے کی کوشش کروں گا۔چنانچہ جب نماز ظہر کا وقت ہوا اور صاحب ڈپٹی کمشنر پنچ کے لئے اُٹھ گئے تو میں نے شیخ رحمت اللہ صاحب کی معرفت حضرت مرزا صاحب سے دریافت کروایا کہ ماجرا کیا ہے؟ حضرت مرزا صاحب نے نہایت افسوس کے ساتھ شیخ رحمت اللہ صاحب کو بتایا کہ مولوی محمد حسین صاحب کے والد کا ایک خط ہمارے قبضہ میں ہے جس میں کچھ نکاح کے حالات اور کچھ مولوی محمد حسین کی بدسلوکیوں کے قصے ہیں جو نہایت قابل اعتراض ہیں مگر ساتھ ہی حضرت مرزا صاحب نے فرمایا۔ہم ہیں سیدھے کھڑے ہو جائیں، اس لئے کہا کہ صاحب کے آگے ہاتھ سے کھیچنے والا پنکھا تھا۔جس کی وجہ سے مولوی صاحب جھک کر صاحب کو دیکھ رہے تھے۔