حیاتِ نور

by Other Authors

Page 137 of 831

حیاتِ نور — Page 137

۱۳۷ بھتیجا شاہسوار نام بھی تھا۔لیکن آپ کے پاس کرایہ کے لئے ایک پیسہ بھی نہ تھا۔پہلے ارادہ کیا کہ بیوی سے کچھ قرض لے لیں لیکن پھر طبیعت نے مضائقہ کیا اور ویسے ہی چل دیئے۔آپ دونوں گھوڑوں پر سوار تھے۔شہر سے باہر نکلے ہی تھے کہ ایک آدمی نے آپ کو ایک روپیہ اور کچھ پیسے پیش کئے۔ایک اور آدمی نے ایک اٹھنی دی۔جب تین چار کوس کا فاصلہ طے کر کے آوان نام ایک گاؤں کے قریب پہنچے تو آپ کے بھیجے نے کہا کہ گرمی لگ رہی ہے، بتاشے تو ہمارے پاس ہیں ہی، اگر آپ فرما ئیں تو میں کنویں پر جا کر شربت پی لوں۔آپ نے فرمایا۔بہت اچھا جاؤ۔وہ ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ پھر واپس آیا اور آپ کو بھی چلنے کے لئے کہا۔جب آپ دونوں کنویں پر پہنچے تو آپ کے بھیجے نے ابھی لوٹا کھولنا ہی چاہا کہ کنویں کے مالک نے کہا کہ آپ ذرا ٹھہر جائیں۔گاؤں کا نمبر دار آپ کو آتے دیکھ کر دودھ لینے گیا ہے۔چند منٹ کے بعد ہی نمبردار آ گیا اور ایک روپیہ بطور نذر آپ کی خدمت میں پیش کیا۔اس کا بیٹا بھی آپ کے زیر علاج رہ چکا تھا۔اور شفایاب ہو گیا تھا۔دودھ پی کر آپ اُٹھنے ہی لگے تھے کہ نمبر دار نے کہا۔ذرا ٹھہر جائیں۔مسجد کاملاں بھی آ رہا ہے۔مسجد کے ملاں نے بھی آپ کی خدمت میں ایک روپیہ پیش کیا۔اس کی غربت کو مد نظر رکھ کر آپ نے اس سے روپیہ لینا پسند نہ کیا۔مگر گاؤں کے تمام لوگوں نے جو اس اثناء میں کافی تعداد میں جمع ہو گئے تھے ، یک زبان ہو کر کہا کہ یہ روپیہ آپ ضرور لے لیں۔واپس ہر گز نہ کریں۔آپ نے جب اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ شخص بہت دنوں سے بیمار تھا اور اس نے آپ سے بذریعہ ڈاک جموں سے دو امنگوائی تھی۔یہ اس کے استعمال سے اچھا ہو گیا۔ہم سب کہتے تھے کہ تو نے دو مفت منگوائی اور کوئی شکر یہ بھی ادا نہیں کیا۔اس نے کہا کہ اگر نورالدین ہمارے گاؤں میں آئے تو روپیہ دے دوں گا۔یہ کبھی روپیہ دینے والا نہیں۔آج اتفاق سے ہی یہ قابو میں آگیا ہے۔اب آپ اس سے روپیہ لے ہی لیں۔عجیب بات ہے کہ آپ اس سے قبل اس گاؤں میں کبھی نہ گئے تھے حالانکہ وہ آپ کے شہر سے صرف ساڑھے چار میل کے فاصلہ پر تھا۔اب آپ کے پاس ساڑھے تین روپے ہو گئے۔جب آپ ریلوے اسٹیشن پر پہنچے تو آپ کے دل میں خیال آیا کہ اپنے بھتیجے شاہسوار کو لاہور دکھا دیں۔لاہور تک دو آدمیوں کا تیسرے درجہ کا کرایہ تین روپے تھا۔ٹکٹ لئے اور لاہور پہنچ گئے۔اسٹیشن سے باہر آئے تو ایک گاڑیبان نے کہا آئیے میری گاڑی پر سوار ہو جائے۔آپ نے پوچھا کہ انارکلی میں شیخ رحیم بخش کی کوٹھی پر جاتا ہے کیا کرایہ لو گے؟ اس نے کہا۔ایک روپیہ سے کم نہ لوں گا۔آپ نے فرمایا ہمارے پاس تو صرف ایک اٹھنی ہے چاہو تو لے لو۔چنانچہ وہ اٹھنی ہی پر راضی ہو گیا۔کچھ دن لاہور رہنے کے بعد جب چلنے لگے تو شیخ صاحب نے اپنی گاڑی منگوائی اور