حیاتِ نور

by Other Authors

Page 138 of 831

حیاتِ نور — Page 138

۱۳۸ آہستہ سے آپ کے کان میں کہا کہ ہمارے نوکر کو آپ انعام نہ دیں۔اسٹیشن پر پہنچے۔پیسہ پاس نہیں مگر اس یقین سے بھر پور ہیں کہ ہم جائیں گے اسی گاڑی میں۔آپ کے کھڑے کھڑے ٹکٹ تقسیم ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے بند ہو گئے۔ٹرین بھی آئی۔مسافر بھی سوار ہو گئے۔اندر جانے کا دروازہ بھی بند کر دیا گیا۔گارڈ نے روانگی کی سیٹی دے دی مگر آپ ہیں کہ کوہ وقار بنے کھڑے ہیں اور دل اس غیر متزلزل یقین سے لبریز ہے کہ جانا اسی گاڑی میں ہے۔جب گاڑی بالکل چلنے ہی کو تھی کہ ایک آدمی کو دیکھا۔وہ نور دین۔نور دین پکارتا ہوا دور تک چلا گیا۔خدا کی قدرت ! گاڑی چل پڑی۔لیکن اتفاقا کسی واقعہ کی وجہ سے پھر رک گئی۔وہ شخص پھر واپس آیا اور آپ کو دیکھ کر اسٹیشن کے کمرہ میں گیا۔وہاں سے تین ٹکٹ خریدے۔ایک اپنا اور دو آپ کے۔ایک سپاہی ساتھ لایا کہ وہ گاڑی میں سوار کرانے میں مدد دے۔جو نہی آپ نے گاڑی میں قدم رکھا گاڑی چل دی۔اس شخص نے کہا کہ مجھ کو آپ سے ایک نسخہ لکھوانا ہے۔آپ نے نسخہ لکھ دیا۔پھر وہ ٹکٹوں کو دیکھنے لگا۔ٹکٹ وہیں کے تھے جہاں تک آپ کو جاتا تھا۔اس نے ٹکٹ آپ کو دیدیئے اور یہ کہہ کر کہ میں ان کے دام آپ سے نہیں لوں گا۔شاہدرہ اسٹیشن پر اُتر گیا۔اور آپ وزیر آباد پہنچے۔وزیر آباد شیشن سے باہر نکل کر آپ نے شاہسوار کو کہا کہ بیگ لے کر شہر میں سے ہوتے ہوئے کیوں کے اڈہ پر پہنچو۔میں بھی پیچھے پیچھے آتا ہوں۔اس زمانہ میں وزیر آباد سے جموں تک ریل نہ تھی۔یوں ہی پر جانا ہوتا تھا۔ابھی آپ تھوڑی دُور ہی نکلے تھے کہ ایک شخص راستہ میں ملا۔اس نے کہا کہ میری ماں بیمار ہے آپ اسے دیکھ لیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ تو علاج کا کوئی موقعہ نہیں۔مجھ کو جلدی جموں پہنچنا ہے۔اس نے کہا۔میرا بھائی میرے ساتھ ہے۔یہ اڈے پر جاتا ہے۔آپ میری ماں کو دیکھ کر جب اڈے پر پہنچیں گے تو یکہ تیار ملے گا۔چنانچہ آپ نے اس کی ماں کو دیکھا۔نسخہ لکھا اور چلنے لگے تو اس شخص نے آپ کی جیب میں کچھ روپے ڈال دیئے۔جن کو آپ نے اڈے پر پہنچنے سے قبل ہی جیب میں ہاتھ ڈال کر گن لیا تھا کہ دس ہیں۔جب اڈے پر پہنچے تو دیکھا کہ اس کا بھائی اور یکہ والا اس بات پر جھگڑ رہے ہیں کہ یکہ والا کہتا تھا کہ دس روپے لونگا اور وہ کہتا تھا کہ یہ کرایہ زیادہ ہے کم لو۔آپ نے فرمایا۔جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں۔دس روپیہ کر یہ ٹھیک ہے۔تکذیب براہین احمدیہ کا جواب پیچھے ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے وجود میں ایک دُرِ بے بہا عطا فرمایا تھا چنانچہ آپ نے خدمت سلسلہ میں اپنی ہر عزیز سے عزیز متاع کو قربان کرنے میں ہی اپنی خاص سعادت سمجھی۔اور یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس کی نظر انتخاب بھی ہر اہم دینی