حیاتِ نور

by Other Authors

Page 106 of 831

حیاتِ نور — Page 106

3۔Y جو دید کا قائل ہو۔آپ نے ایک جینی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ صاحب تو وید کے قائل نہیں !انگر پھر بھی ہندو ہیں۔اس پر مہاراج نے کہا۔ہندو وہ ہے جو جلو پہنے۔آپ نے ایک سکھ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ صاحب جو آپ کی مجلس میں موجود ہیں، جیو نہیں پہنتے۔پھر یہ ہندو کس طرح ہوئے؟ مہاراج بولے، ہندو وہ ہے جو گائے کا گوشت نہ کھائے۔اس مجلس میں ایک سر بھنگی بھی تھا۔آپ نے اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ شخص گائے تو الگ رہی انسان کا گوشت بھی نہیں چھوڑتا۔مہا راجہ صاحب حضرت مولانا کی اس گفتگو کے مقصد کو خوب سمجھتے تھے۔جب آپ کی گفتگو سے عاجز آگئے تو کہنے لگے کہ مولوی صاحب ! آپ بیٹھے رہیں۔میں باہر جا کر پانی پی لوں گا۔۳۵ بتائیے ! ایسی جرات کا انسان راجوں، مہاراجوں اور نوابوں کے درباروں میں کہاں مل سکتا ہے ؟ آپ کی جرات کی ایک مثال ایک مرتبہ ایک بہت بڑا ڈا کٹ کشمیر میں ایک رئیس کے ہاں مدعو تھا۔حضرت خلیفہ امسح الاواں بھی حسن اتفاق سے وہاں جا نکلے۔وہاں عورت و مرد کی مساوات پر گفتگو ہورہی تھی اور وہ ڈاکٹر صاحب مساوات پر بہت زور دے رہے تھے۔حضرت مولوی صاحب نے پوچھا۔کیا آپ کے ہاں اولاد ہے؟ ڈاکٹر صاحب موصوف نے کہا۔ہاں ! تین سال کا ایک لڑکا موجود ہے۔یہ معلوم کر کے آپ بلا تامل اُٹھے اور ڈاکٹر صاحب موصوف کی چھاتیاں مولنا شروع کر یں۔ڈاکٹر حیران تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ آخر اس نے اپنے میزبان رئیس سے پوچھا کہ یہ صاحب کون ہیں؟ اور انہوں نے ایسی بے جا حرکت کیوں کی ہے؟ اس رئیس نے کہا۔یہ بہت بڑے آدمی ہیں۔میری کیا مجال ہے کہ میں ان سے کچھ دریافت کر سکوں۔آپ نے بلا انتظار فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ نے ابھی عورت و مرد میں مساوات کا ذکر فرمایا ہے۔آپ کی جو رو تو بچہ جن چکی۔اب آپ کی باری ہے میں دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا آپ بچہ جننے کے لئے تیار ہیں؟ اگر نہیں تو مساوات کیسی ! یہ منکر وہ ڈاکٹر صاحب ششدر رہ گئے اور اس رئیس نے قہقہہ مار کر ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ اب جواب دو۔ڈاکٹر صاحب نے کھسیانہ ہو کر کہا کہ واقعی ہماری غلطی ہے۔ہم بلا سوچے سمجھے یورپ کی تقلید کرتے ہیں۔اسکے تثلیث پر اعتراض ایک مرتبہ آپ کہیں لا ہور تشریف لائے۔ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب ان دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے تھے۔کالج کے ایک پروفیسر مسٹر آرنلڈ صاحب نے کہا کہ تثلیث کا مسئلہ کسی ایشیائی