حیاتِ نور — Page 105
2 وزیر اعظم کے ساتھ کوئی کام تھا۔رات کے دس بجے کا وقت تھا۔آپ نے فرمایا کہ آپ اسی وقت جا کر ملاقات کریں۔انہوں نے فرمایا۔حکیم صاحب ! وہاں تو کوئی شریف آدمی جاہی نہیں سکتا۔فرمایا۔میں دیوان جی کو ابھی ایک خط لکھتا ہوں۔چنانچہ آپ نے لکھا کہ : یہاں کے لوگ ملاقاتوں کے عادی ہیں۔میں نے سُنا ہے کہ آپ نے خطر ناک پہرہ بٹھایا ہے۔مہربانی کر کے ایک وسیع کمرہ جس میں ایرانی قالین بچھا ہوا ہو۔ملاقات کے لئے مقرر فرما ئیں کہ لوگ وہاں جا کر بیٹھ سکیں۔باقی جب آپ کا جی چاہے اس کمرہ میں ملاقات کے لئے آئیں اور جس سے چاہیں ملاقات کریں جس سے چاہیں نہ کریں مگر پشتونوں سے شریف آدمیوں کو دھکے دلوانا آپ کی شان کے خلاف ہے“۔میه خط اسی وقت دیوان صاحب کے لیٹر بکس میں ڈالا گیا اور اسی وقت انہیں پہنچا بھی دیا گیا۔ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ دیوان صاحب کے حقیقی بہنوئی جو اُن کے پرائیویٹ سیکرٹری بھی تھے، ہاتھ۔میں لائین لئے ہوئے آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ دیوان صاحب نے آپ کو بلایا ہے۔آپ وہاں تشریف لے گئے۔جا کر دیکھا کہ ایک وسیع کمرے میں ایرانی قالین بچھا ہوا ہے اور پہرہ کا نام و نشان نہیں۔آپ نے یہ حالت دیکھ کر دیوان صاحب کا شکریہ ادا کیا۔جس کا جواب انہوں نے ان الفاظ میں دیا کہ: ریاست میں اس طرح صفائی سے کہنے والا انسان بھی ضروری ہے اور اس لئے میں آپ کی بڑی قدر کرتا ہوں۔اب میں کسی کو نہ روکوں گا۔اور آپ کے لئے تو کوئی وقت مقرر نہیں۔آپ جس وقت چاہیں بلا تکلف تشریف لائیں۔آپ کی غیرت وحمیت کا ایک واقعہ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک مجلس میں جس میں مختلف مذاہب کے علماء اور فضلا بیٹھے ہوئے تھے۔مہاراجہ صاحب جموں و کشمیر کو پیاس لگی۔اس مجلس میں مسلمان صرف ایک آپ ہی تھے۔آپ کو اس بات کا علم تھا کہ مہا راجہ صاحب چھوت چھات کے گرویدہ ہونے کی وجہ سے اس مجلس میں پانی نہیں پیتے جس میں کوئی مسلمان موجود ہو۔اس لئے آپ کو فکر پیدا ہوئی کہ ایسا نہ ہو آپ کو اُٹھنا پڑے۔آخر کچھ سوچ کر آپ نے مہاراجہ صاحب سے سوال کیا کہ مہاراج! ہندو کس کو کہتے ہیں؟ مہاراج نے کہا،