حیاتِ نور — Page 61
" مجھے جوانی میں بہت پیاس ہوا کرتی تھی۔بالخصوص علی الصبح پیاس سے بیتاب ہو جاتا تھا۔چنانچہ حسب عادت ایک وقت مجھے آخر شب میں پیاس ہوئی ، دیکھا تو پانی نہیں۔بالآ خر بدوی سے کہا کہ مجھے پیاس ہو رہی ہے۔کہیں سے ایک گلاس پانی لا۔وہ فوراً چلا گیا اور ایک دوسرے کے اونٹ کے پاس جا کر جس پر ایک ہندوستانی معزز بہت سا پانی مشکیزہ میں رکھ کر بیٹھے ہوئے تھے کہا کہ ایک مولوی صاحب جو آپ کے ہی ہم وطن ہیں۔ان کو ایک گلاس پانی چاہئے۔وہ زبان نہیں جانتے تھے۔پکارنے لگے حرامی ! حرامی! یعنی چور! چور لفظ حرامی منہ سے نکلنا تھا۔کہ وہ اس تیزی سے میرے اونٹ کے پاس آ گیا کہ گویا وہ یہیں تھا لیکن بہت غصہ میں بھرا ہوا اور کچھ بڑ بڑاتا تھا۔میں نے کہا۔این الماء کہا اس وقت پانی کا کوئی موقعہ نہیں۔آپ تھوڑا سا انتظار کریں۔پھر کہا کہ دو ومیل کے فاصلے پر ایک چشمہ آتا ہے۔وہاں پانی پی لینا۔جب صبح ہوئی تو قافلہ میں ایک شور ہوا اور ایک صاحب بہت چیخنے لگے۔دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ ایک چور نے رات کو اُن کے مشکیزہ میں ایک بڑا سوا گھسیڑ دیا جس سے ہولے ہوئے پانی نکل گیا۔میں نے اُن سے کہا کہ آپ کو چاہئے تھا۔کہ ایک گلاس پانی اس غریب کو دے دیتے۔انہوں نے کہا کہ حضرت ! میں تو زبان ہی نہیں جانتا ہوں۔میں تو اسے چور ہی سمجھا۔خیر بعد میں جب میں نے نرمی سے اس کو نصیحت کی تو کہنے لگایا شیخ! ایک گلاس پانی کے لئے اس نے بخیلی کی۔اب معلوم ہو جائے گا کہ مکہ تک اس کو کیسے پانی ملے گا۔مکہ مدینہ کے لوگوں کی حالت ایسا ہی ایک واقعہ آپ نے یوں بیان فرمایا کہ ” جب میں مکہ گیا تو ایک ہم مکتب و ہیں کا رہنے والا اتفاقا مل گیا۔میں جب مدینہ طیبہ جانے لگا تو اس کو کہا کہ میرا یہ سامان تو امانتا اپنے پاس رکھنا اور روپیہ کو تجارت پر لگا کر نفع کمانا۔میں بہت دنوں تک آؤں گا۔اگر زندہ رہا تو لے لوں گا جب واپس آیا تو اس نے مجھے بڑے آرام و آسائش سے رکھا مگر نہ اس نے سامان دیانہ روپیہ سب کچھ کھا گیا۔اس لئے مکہ مدینہ کے لوگوں پر پورا اعتماد پیدا