حیاتِ نور

by Other Authors

Page 62 of 831

حیاتِ نور — Page 62

نہیں ہوتا تھا۔اول غالباً ناظرین پر یہ امر خفی نہ ہوگا کہ اوپر کا واقعہ اُس زمانہ کا ہے جبکہ عرب میں سارا سفر اونٹوں پر ہی طے کیا جاتا تھا لیکن اب تو موٹروں اور بسوں کی وجہ سے بہت آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔کداء کے راستے سے مکہ میں داخلہ ہوئے۔جب آپ مکہ کے قریب پہنچے تو ایک حدیث کی بناء پر آپ کداء کی طرف سے مکہ میں داخل عمرہ کے لئے احرام باندھنا مکہ معظمہ کے جس گھر میں آپ کی سکونت تھی۔آپ وہیں سے احرام باندھ کر عمرہ ادا کر لیا کرتے تھے۔گھر کے مالک ایک بوڑھے شخص نے جو حکیم کہلاتے تھے۔آپ سے کہا کہ آپ عام دستور کے مطابق متعقیم سے کیوں احرام نہیں باندھتے۔آپ نے فرمایا کہ طالب علمی کی وجہ سے مجھے نہ تو اتنی فرصت ہے اور نہ میں اس کی ضرورت سمجھتا ہوں کیونکہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مکہ والے مکہ سے احرام باندھ سکتے ہیں۔آپ کی یہ بات سنکر وہ شخص بہت گھبرایا اور اس نے کہا کہ آپ تو تمام شہر کے خلاف کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا: تمام شہر کے خلاف تو نہیں البتہ گدھے والوں کے خلاف کرتا ہوں جن کے کرایہ میں کمی ہوتی ہے۔اس پر وہ نفس کر چپ ہور ہے۔خدا کا فضل آپ فرماتے ہیں: میں نے حج میں دو مرتبہ سات سات دفعہ طواف کر کے دو دو رکعتیں پڑھا یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔ورنہ یہ موقعہ کسی کو بڑی ہی مشکل سے ملتا ہے بلکہ نہیں ملتا۔مطاف میں دن رات ہر وقت ہی خدا تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے۔دن جگہ نہیں جہاں اس کثرت سے ہر وقت خدا تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہو۔پس نزول رحمت gr جس قدر وہاں ہوتا ہے دوسری جگہ نہیں ہوتا۔"۔دنیا میں کوئی