حیاتِ نور — Page 772
ــور ا۔یا رو اغیار ، مومن و کافرسب کو ایک نظر دیکھنا۔ب۔طب یونانی و ویدک کے علاوہ مناسب موقعہ پر ڈاکٹری مجربات سے بھی ابنائے ملک وملت کو مستفید فرمانا۔ج بعض خطر اک امراض کا علاج قرآن شریف سے استخراج کرنا۔د۔دوا کے ساتھ دعا بھی کرنا۔ہ علاج معالجہ کے معاملے میں کسی کی دنیوی و جاہت سے مرعوب نہ ہونا۔ر مریضوں سے مطلق طبع نہ رکھنا اور آپ کا اعلیٰ درجہ تو کل واستغناء۔ز - نادار ومستحق مریضوں کا نہ صرف علاج مفت کرنا بلکہ اپنی گرہ سے بھی ان کی دستگیری و پرورش کرنا خصوصا طلباء قرآن وحدیث وطب کی۔-15 دا تعالی حکیم صاحب مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔اور پسماندگان ،، فا کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمادے۔" ۱۲ علیگڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ نے لکھا: دو قطع نظر اپنے مختص الفرقہ بعض خاص معتقدات کے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ حکیم صاحب مرحوم ایک نہایت بلند پایہ عالم عامل اور علوم دینیہ کے بہت بڑے خادم تھے۔اس پیرانہ سالی اور ضعف و مرض کی حالت میں بھی آپ کا بیشتر وقت تعلیم و تعلم میں صرف ہوتا تھا۔اور ایک طبیب حاذق ہونے کی حیثیت سے بھی آپ خلق اللہ کی بہت خدمت بجالاتے تھے۔اس لحاظ سے مرحوم کا انتقال واقعی سخت رنج و ملال کے قابل ہے۔“ ۱۳- رسالہ ” البلاغ “ لکھتا ہے: الوداع اے نورالدین! مجھے افسوس ہے کہ میں تحریک احمدیہ کے کاروان سالا رو حقائق معنوی کے نباض حکیم نور الدین کی قلمی تعزیت میں سب سے پیچھے ہوں یہ ایک ایسی شخصیت جو وسعت علمی کے ساتھ زہدو ورع کے عملی مظاہر کا گنجینہ تھی۔اب ہم میں نہیں ہے۔معارف دینیہ اور دقائق طیبہ کے ساتھ ایک پر وسعت مطالعہ کے امتزاج نے جو صحف آسمانی سے لیکر عام افسانوں پر محیط تھا۔نورالدین کو ایک ایسی اوج