حیاتِ نور

by Other Authors

Page 773 of 831

حیاتِ نور — Page 773

پرور ـور نظر پر فائز کر دیا تھا جہاں نوع انسانی کے جذبات کا طلسم سر آشکار ہو جاتا ہے۔یہی باعث تھا کہ اس کے معانی پر دور تکلم کا ایک ہلکا سا تموج کسی مخالف کی فسوں بلند آہنگیوں پر ایک مہر سکوت بن جاتا تھا۔اس کی تمام آب و گل جوشش دینی اور وسعت علمی کا ایک پر ندرت مجموعہ تھی۔اور اس کی جہاں پیا تار نظر ایک پر جذب کنند حکمت تھی۔اس کے حکیمانہ تجس نے کمال تورع کے ساتھ مل کر لطائف سہری کی آغوش اس کے لئے کھول دی تھی۔اور حکمت ازل کی کارسازیوں پر اس کا اعتماد سطح علمیت پر فائز ہو گیا تھا۔اس کی آخری زندگی کا بیشتر حصہ تحریک احمدیہ کے ساتھ وابستہ رہا ہے۔اور اس کے لیل ونہار اسی جہد دینی کے پر مشقت مظاہر میں وقف ہوئے ہیں۔بے شبہ جس پر خلوص ایثار اور شیفتہ پیوستگی کے ساتھ اس نے اپنے ہادی کا ساتھ دیا۔اس کی نظیر قد مائے اسلام کے سوا اور کہیں نہیں مل سکتی۔مسیحا گردوں نشین ذات سے شائبہ مرگ کی وابستگی اور مہدی وعیسی کے خصائص کا ایک ذات میں اجتماع ہندی ارباب اسلام کے لئے آشوب شوریدگی اور احتجاج کا ایک تلخ پیام تھا اور جس پر خروش شدت کے ساتھ اہل اسلام کی جانب سے اس پر غرابت نکتہ آفرینی کا تخالف ہوا۔وہ ایک آتش آفرین ادائے رعد کی طرح تھا۔لیکن نورالدین کا پیمان عقیدت ہجوم مخالفت کی طوفان انگیزیوں کے باوجود بہ پیوستگی استوار تھا۔اور وہ ایک کوہ گراں کی طرح برق جہندہ اور ابر فروشندہ کے سامنے یکساں پائے ثبات پر قائم تھا۔اس کی پر خلوص استقامت سے بعید تھا کہ وہ پایان عمر تک اس سنگ آستاں سے جدا ہو جہاں اس کی پر محنت کاوشوں کو بائین آسائش ملی تھی۔اگر چہ میں اپنے ادراک کو تحریک احمدیہ کی بعض نکتہ آفرینیوں کا ہم وفاق نہیں دیکھتا۔لیکن اس پر گداز سوزش روحانی پر محو حیرت ہوں جس کے پر تپش غلغلے میرے متبحر جذبات کو گریہ محبت سے آشنا کر گئے ہیں۔نور الدین کی ذات گرامی ہماری مادی نگاہوں سے مستور ہے لیکن مساحت گیتی پر اس کے نقش پا بدستور ثبت ہیں اور منزل استقامت کی جانب ہماری رہبری کر رہے ہیں۔لطف ازل اس کی خاک پر عنبر بار ہو۔