حیاتِ نور — Page 767
ات تنور ۷۶۲ کرتے تھے۔آپ کے درس کے نوٹ میں اخبار بدر میں شائع کرتا رہا۔فرمایا کرتے تھے کہ میں دو وقت شرک سے بالکل پاک ہوتا ہوں۔ایک درس قرآن دینے کے وقت دوسرا مریضوں کا علاج کرنے کے وقت۔دراصل وہ شرک سے تو ہر وقت ہی پاک تھے۔لیکن ان کا مطلب یہ تھا کہ وہ بھی یہ طبع نہ رکھتے تھے۔کہ مریض ان کے علاج کے عوض میں کچھ فیس دے۔اور قرآن کے مطالب بیان کرنے میں کسی اور کے خیال کی پروانہ کرتے تھے۔بلکہ جو معانی اللہ نے ان کے دل پر کھول دیئے تھے اور جن کو وہ درست سمجھتے وہی بیان کرتے۔‘ ھے ملک کے دیگر اخبارات اور رسالہ جات کی آراء ا۔اخبار ”زمیندار“ لاہور نے لکھا: " آج کی ہندوستانی برقی خبروں میں یہ خبر عام مسلمانوں اور بالخصوص احمدی دوستوں میں نہایت رنج و افسوس سے پڑھی جائے گی کہ مولوی حکیم نور الدین صاحب جو ایک زبردست عالم اور جنید فاضل تھے۔۱۳ مارچ ۱۹۱۷ء کو کئی ہفتے مسلسل علالت کے بعد دنیائے فانی سے عالم جاودانی کو رحلت کر گئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔مولوی حکیم نورالدین اپنے عقیدتمندوں کی جماعت میں خلیفہ امسیح کے لقب سے ملقب تھے۔اور مرزا غلام احمد مغفور کے جانشین کہلاتے تھے۔اس لئے احمدی حضرات کو ان کی وفات سے ایسا شدید صدمہ محسوس ہوگا جو انہیں مدت مدید تک بے قرار رکھے گا۔اگر مذہبی عقائد سے قطع نظر کر کے دیکھا جائے تو بھی مولانا حکیم نورالدین کی شخصیت اور قابلیت ضرور اس قابل تھی کہ تمام مسلمانوں کو رنج و افسوس کرنا چاہئے۔کہا جاتا ہے کہ زمانہ سو برس تک گردش کرنے کے بعد ایک باکمال پیدا کرتا ہے۔الحق اپنے تبحر علم وفضل کے لحاظ سے مولانا حکیم نور الدین بھی ایسے ہی باکمال تھے۔افسوس ہے آج ایک زبردست عالم ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گیا۔ہمیں اس حادثہ الم افزا میں اپنے احمد کی دوستوں سے جن کے سر پر غم والم کا پہاڑ ٹوٹ گرا ہے دلی ہمدردی ہے۔ہماری دعا ہے کہ ارحم