حیاتِ نور — Page 740
اتِ نُ ـور ۷۳۵ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں جو سر گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔اسی وجہ سے ہماری جماعت کسی طرح ان سے تعلق نہیں رکھ سکتی اور نہ ہمیں ایسے تعلق کی حاجت ہے۔چونکہ آپ محض نام سے ہماری بیعت میں داخل ہوئے تھے اور حقیقت سے سراسر بے خبر۔اس لئے آپ کو نہ یہ معلوم ہے کہ ایمان کس کو کہتے ہیں اور اللہ کس کا نام ہے اور نہ یہ خبر کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے۔اس لئے آپ کو سخت لغزش ہے اور لغزش بھی ایسی کہ ارتداد تک پہنچ گئی۔لیکن اللہ تعالیٰ کو کسی کی پروا نہیں۔اگر ایک مرتد ہو جائے تو اس کی عوض میں ہزار ہائے آئے گا۔ایسا ہی ڈاکٹر عبد الحکیم صاحب کو جو حضور نے تیسر اخط لکھا۔اس میں بھی حضور لکھتے ہیں: خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے اور یہ کیونکر ہو سکتا ہے ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلا ہے خدا کے حکم کو چھوڑ دوں۔اس سے سہل تر بات یہ ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کر دوں۔وہ لوگ جو میری دعوت کے رد کرنے کے وقت قرآن شریف کی نصوص صریحہ کو چھوڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے کھلے کھلے نشانوں سے منہ پھیرتے ہیں ان کو راستباز قرار دیتا اسی شخص کا کام ہے جس کا دل شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے۔“ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کے خط اور حضرت اقدس کے جواب سے ظاہر ہے کہ اکثر باتوں میں غیر مبائعین کا مسلک ڈاکٹر صاحب موصوف کے مسلک سے بالکل ملتا ہے مگر غیر مبائعین حضرات چونکہ ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات اور فرامین کے ایک ایک لفظ پر ایمان رکھتے ہیں اس لئے ان کی غلط نہی کو دور کرنا نسبتا آسان ہے مولانا ابوالعطاء جالندھری صاحب کا ایک نہائیت دلچسپ واقعہ مثال کے طور پر اخویم محترم مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتا ہوں جو آپ کو بہت ابتدائی زمانہ میں پیش آیا تھا۔چونکہ اس واقعہ کا مسئلہ کفر و اسلام کے سمجھنے میں گہرا تعلق ہے اس لئے یہاں اس کا بیان کر دینا انشاء اللہ بہت سی سعید روحوں کی غلط فہمیوں کے دور کرنے کا