حیاتِ نور

by Other Authors

Page 736 of 831

حیاتِ نور — Page 736

کا حسین امتزاج اور متضاد جذبات کا پر کیف اجتماع کہاں میسر آ سکتا ہے۔یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے بقول سید نا نورالدین خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کہ میں چاہتا ہوں کہ دفن ہونے سے پہلے تمہارا کلمہ ایک ہو جائے پھر ایک بات جس پر جناب مولوی محمد علی صاحب نے اس ٹریکٹ میں بہت زور دیا ہے وہ صدر انجمن کی جانشینی ہے۔اس کے متعلق مفصل سیر کن بحث اس کتاب میں ہو چکی ہے اس لئے یہاں اس کے دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ایک بات جو مولوی صاحب نے آخر میں پیش کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت خلیفہ ایج خلیفہ الاول کا جانشین متقی اور ہر دلعزیز ہونا چاہیے۔لیکن جو شخص مسلمانوں کی تکفیر کرنے والا ہو وہ نہ تو متقی ہو سکتا ہے اور نہ ہی ہر دلعزیز۔مولوی صاحب موصوف کے نزدیک اگر کسی کے اتقاء کو پرکھنے کا یہی معیار ہے کہ اختلاف خیالات و عقاید اس کا کسی سے نہ ہو تو دنیا میں کوئی شخص بھی متقی نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہو سکتا جس کے خیالات سے باقی سب لوگ کلیتہ متفق ہوں۔خود جناب مولوی صاحب بھی اپنے اس خود ساختہ معیار کی رو سے ہرگز متقی نہیں کہلا سکتے جیسا کہ ہم ابھی انشاء اللہ ثابت کریں گے کہ وہ خود اور ان کے ہمنوا دل سے تو مسلمانوں کی تکفیر کے قائل ہیں لیکن زبان پر یہ الفاظ لاتے ہوئے عوام کے سامنے جھجکتے اور مصلحتار کہتے ہیں اور وہ مصلحت کیا ہے خود انہی کے الفاظ میں سنئے۔اس ٹریکٹ میں آپ فرماتے ہیں: دوسرے اس ( حضرت خلیفہ المسیح کے جانشین۔ناقل ) میں وہ باتیں موجود ہونی چاہئیں یعنی متقی ہو۔ہر دلعزیز ہو۔عالم باعمل ہو۔حضرت صاحب کے احباب سے نرمی اور درگذر سے کام لے۔ہاں میں بلا کسی ڈر کے یہ کہوں گا کہ مسلمانوں کی تکفیر کرنیوالے تقویٰ سے الگ راہ پر قدم مارتے ہیں اور ہر دلعزیزی کی صفت بھی انہیں حاصل نہیں ہو سکتی مولوی صاحب کا یہ فقرہ اور ہر دلعزیزی کی صفت بھی انہیں حاصل نہیں ہوسکتی، ان کے اندرونہ کی صحیح عکاسی کر رہا ہے۔مسئلہ کفر و اسلام سلسلہ احمدیہ میں کوئی ایسا پیچیدہ مسئلہ نہیں رہا جس کے لیے ہر کس و ناکس اپنا اپنا اجتہاد شروع کر دے۔حکم و عدل مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں اس مسئلہ کو نہایت وضاحت سے حل کر دیا۔خلافت اولی کے عہد میں پھر مولوی صاحب اور ان کے ہم خیالوں نے