حیاتِ نور

by Other Authors

Page 680 of 831

حیاتِ نور — Page 680

اتِ نُ ــور ۶۷۵ ہر چوتھے پانچویں دن مجھے حرارت ہو جاتی ہے اور سخت سردرد کا دورہ ہوتا ہے۔چنانچہ اس وقت بھی جبکہ میں یہ مضمون لکھ رہا ہو۔میرے سر میں درد ہے اور بدن گرم ہے۔اور صرف خدا ہی کا فضل ہے کہ میں یہ چند سطریں لکھنے کے قابل ہوا ہوں۔اور علاوہ ازیں مجھے اور بھی کئی بیماریاں ہیں۔میرا سینہ کمزور ہے۔میرا جگر بیمار ہے۔میرا معدہ اچھی طرح ہضم نہیں کر سکتا۔تمہیں کیا معلوم ہے کہ میں کل تک زندہ رہونگایا نہیں۔کیا جانتے ہو کہ نیا سال مجھ پر چڑھے گا یا نہیں۔تم کیوں خوانخواہ یوسف کے بھائیوں کی طرح کہتے ہو کہ يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبَيْكُمْ میرے تو اپنے پیارے دوسری دنیا میں ہیں۔میرے لئے تو یہ دنیا خالی ہے۔میرا محمد اُس دنیا میں ہے۔میرا احمد اُسی دنیا میں ہے۔کیا وہ لوگ زندہ رہے کہ میں رہونگا؟ میرے پاس اعمال کا ذخیرہ نہیں اور میرا ہاتھ خالی ہے۔لیکن خدا کے فضل سے اُمیدوار ہوں کہ وہ مجھے ان کے خدام میں جگہ دے۔کیونکہ ان کے قرب کے بغیر جنت بھی میرے لئے بھیانک ہے۔میں تم سے گھبراتا نہیں۔میں تمہارے حملوں سے ڈرتا نہیں۔کیونکہ میر اخدا بھروسہ ہے۔لیکن مجھے اگر غم ہے تو اس بات کا کہ قوم میں فتنہ نہ ہو اور یہی عظم میرے دل کو کھائے جاتا ہے۔مگر مجھے امید ہے کہ خدا تعالیٰ اس جماعت کو بچائے گا اور اس کی مدد کریگا۔کیونکہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ وہ ایک پودا اپنے ہاتھ سے لگا کر پھر اسے سوکھنے دے۔ہاں ابتلا کے ایام ہیں۔جو گزرجائیں گے۔وَا أَسَفًا عَلَى فِرَاقِ قَوْمٍ هُمُ الْمَصَابِيحُ وَالْحُصُونَ ہائے افسوس اس قوم کی جدائی پر جو شمع کی طرح تھے اور قلعوں کی طرح تھے۔وَالْمُدْنُ وَالْمُرُنُ وَالرَّوَاسِى وَالْخَيْرُ وَالامُنُ وَالسُّكُونَ اور شہر تھے اور بارش تھی اور پہاڑ تھے اور خیر تھے اور امن تھے اور سکون تھے۔لَمْ تَتَغَيَّرُ لَنَا اللَّيَالِي حَتَّى تَوَفَّاهُمُ الْمَنُونَ ہمارے لئے زمانہ نہیں بدلا۔مگر موتوں نے ان کو وفات دیدی۔فَكُلُّ حَمِيرِ لَنَا قُلُوبٌ وَكُلَّ مَاءٍ لَنَا عُيُونُ اب تو یہ حال ہے کہ دل انگارہ ہیں اور آنکھیں بہہ رہی ہیں۔أَفَوِّضُ أَمْرِى إِلَى اللهِ هُوَ وَلِي فِى الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ - وَإِنَّمَا أَشْكُوبَتِي