حیاتِ نور — Page 679
۶۷۴ بدظنی کرتے ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں ڈیڑھ کروڑ آدمی بستا ہے۔مگر مجھے تو سوائے خدا کے اور کوئی نظر نہیں آتا۔لوگ اس دنیا میں تنہا آتے اور یہاں سے تنہا جاتے ہیں۔مگر میں تو تنہا آیا اور تنہا رہا۔اور تنہا جاؤں گا۔یہ زمین میرے لئے ویران جنگل ہے اور یہ بستیاں اور شہر میرے لئے قبرستان کی طرح خاموش ہیں۔میرے دوست اس وقت مجھے معاف فرما ئیں۔میں ان کی محبت کا شکر گزار ہوں۔لیکن میں کیا کروں کہ جہاں میں ہوں وہاں وہ نہیں ہیں۔میں ان مہربانوں کے مقابلہ میں جو مجھے آئے دن ستاتے رہتے ہیں۔ان کی محبت کی قدر کرتا ہوں۔ان کے لئے دعا کرتا ہوں۔اپنے رب سے ان پر فضل کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔لیکن باوجود اس کے میں تنہا ہوں۔میری مثال ایک طوطے کی ہے۔جس کا آقا اس پر مہربان ہے اور اس سے نہایت محبت کرتا ہے اور طوطا بھی اس کے پیار کے بدلہ میں اس سے انس رکھتا اور اس کی جدائی کو نا پسند کرتا ہے۔مگر پھر بھی اس کا دل کہیں اور ہے۔اس کے خیال کہیں اور ہیں۔میرے آقا کا دلبند میرا مطاع امام حسین تو ایک دفعہ کر بلا کے ابتلا میں مبتلا ہوا۔مگر میں تو اپنے والد کی طرح یہی کہتا ہوں کہ کر بلائیست سیر ہر آنم و صد حسین است در گریبانم ”اے نادانو ! کیا تم اتنا نہیں سمجھتے کہ اگر میرا خدا مجھے بڑا بنانا چا ہے۔تو تم میں سے کون ہے۔جو اس کے فضل کو رد کر سکے۔اور کون ہے جو میرے مولا کا ہاتھ پکڑ ے۔وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلاَ رَادَّ لِفَضْلِهِ يُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیم اور اگر وہ عزت دینا چاہے تو کون ہے جو مجھے ذلیل کر سکے اور اگر وہ مجھے بڑھانا چا ہے۔تو کون ہے جو مجھے گھٹا سکے اور اگر وہ مجھے اونچا کرنا چاہے۔تو کون ہے جو مجھے نیچا کر سکے۔اور اگر وہ مجھے اپنے پاس بٹھائے۔تو کون ہے جو مجھے اس سے دور کر دے۔پس اپنے آپ کو خدامت قرار دو کہ عزت دینا اور ذلیل کرنا خدا کے اختیار میں ہے نہ کہ تمہارے۔من كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا - کسی انسان کی زندگی کا بھی اعتبار نہیں ہوتا۔مگر میں تو خصوصاً بیمار رہتا ہوں اور ـور