حیاتِ نور

by Other Authors

Page 681 of 831

حیاتِ نور — Page 681

اتِ نُـ وَ حُزْنِي إِلَى اللهِ - اَللَّهُمَّ اِنّى اَعُوذُ بِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ وَ شَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ - وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ نوٹ میں اس دوست کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔کیونکہ شاید اسے اپنے نام کا ظاہر کرنا منظور نہ ہو۔اگر چہ یہ دوست مجھ سے اس خط کا جواب اخبار کے ذریعہ طلب کرتا ہے۔مگر پھر بھی آئمکرم کی تحریر سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا نام بھی ظاہر کیا جاوے۔اس مضمون میں سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے معترض کے الزامات کا مکمل طور پر اصولی جواب دیدیا ہے اور اس کے مطالبہ کے مطابق قسم بھی کھائی ہے۔اے کاش ! کہ اس نے اپنے اقرار کے مطابق اپنا دعوئی اٹھالیا ہو اور سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے معافی مانگ لی ہو۔مگر افسوس ہے کہ ہمیں اس امر کی کوئی سند نہیں ملتی کہ اس نے ایسا کیا ہوگا۔اب اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔حضرت کے کرم کو دیکھئے کہ اس کا نام تک شائع کرنا پسند نہیں فرمایا۔ورنہ آج جو قبولیت حضور کو اپنے عظیم الشان کا رہائے نمایاں کی وجہ سے حاصل ہو چکی ہے۔اگر اس کا نام جماعت کو معلوم ہوتا۔تو اس کے متعلق جماعت کیا خیال کرتی ! خصوصا اس فقرہ کے متعلق کہ " آپ سے ہزار درجہ افضل تو میں ہوں۔اگر آپ نے دعوی کیا ہے تو مجبور امین بھی ایسا ہی کرونگا“۔اس کے متعلق سوائے اس کے اور ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ چہ نسبت خاک را بعالم پاک۔اب رہ گیا۔اس کا یہ کہنا کہ خواجہ کمال الدین صاحب کامیاب ہو گیا ہے اور اب آپ کا حسد ا سے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔یہ بھی اس کی ایک جہالت کی بات تھی۔اسے کیا پتہ تھا کہ وہ اپنی نادانی کی وجہ سے چاند پر تھوک رہا ہے۔حضرت کی شان یہی تھی کہ آپ اس قسم کی بے جا تعلیوں سے اغماض برتتے۔ان ٹریکٹوں اور خط کی اشاعت کا فائدہ حضرات! گمنام ٹریکٹوں کے مضمون سے بھی آپ کو آگاہی حاصل ہو گئی اور جو کھلی چٹھی سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے نام ان لوگوں میں سے کسی نے لکھی۔وہ بھی آپ نے پڑھ لی۔چٹھی لکھنے والے کا نام تو سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے خود ظاہر نہیں فرمایا کہ شاید اپنے نام ور