حیاتِ نور

by Other Authors

Page 663 of 831

حیاتِ نور — Page 663

۶۵۸ ـور جواب اس وسوسہ کا جواب بھی گزشتہ صفحات میں تفصیل کے ساتھ دیا جا چکا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات سے ثابت کیا جاچکا ہے کہ حضور کے بعد خلافت کا نظام جاری رہے گا۔ذیل میں صرف دو حوالے پیش کئے جاتے ہیں: اول حمامة البشری میں حضور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں بیان فرمودہ پیشگوئی ثم يسافر المسيح او خليفة من خلفائه۔پیش فرما کر اس امر کی بشارت دی ہے کہ آپ کے بعد بھی خلافت جاری رہے گی دوم اپنے وصال سے صرف ڈیڑھ ماہ قبل حضور نے ایک تقریر کرتے ہوئے فرمایا: " صوفیا نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی شیخ یا رسول اور نبی کے بعد خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے۔تو سب سے پہلے خدا کی طرف سے اس کے دل میں حق ڈالا جاتا ہے۔کیونکہ یہ خدا ہی کا کام ہے اور خدا کے انتخاب میں نقص نہیں۔چنانچہ اللہ تعالٰی نے حضرت ابوبکر صدیق کو اس کام کے واسطے خلیفہ بنایا اور سب سے اول حق انہی کے دل میں ڈالا۔مؤخر الذکر حوالہ میں حضور نے نہ صرف اپنے بعد خلیفہ کی بشارت دی۔بلکہ اشارہ یہ بھی فرما دیا کہ آپ کے بعد حضرت حاجی الحرمین مولانا حکیم نورالدین صاحب خلیفہ ہونگے۔کیونکہ سب سے پہلے حق آپ ہی کے دل میں ڈالا گیا تھا اور آپ ہی نے سب سے پہلے بیعت کی تھی اس تقریر میں آگے چل کر حضور فرماتے ہیں کہ: ایک الہام میں اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام شیخ رکھا ہے۔اَنتَ الشَّيْخُ الْمَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعُ وَقْتُه (یعنی تو وہ شیخ مسیح ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائیگا۔یہ الفاظ منکرین خلافت کے لئے جنہوں نے محض اس لئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کا انکار کیا کہ حضور کے بعد خلافت کو مٹانے کے لئے راہ ہموار ہو جائے۔چشمہ بصیرت کا کام دے رہے ہیں۔کیونکہ حضور کے شیخ ہونے کا انکار تو وہ کسی صورت میں بھی نہیں کر سکتے۔کاش ! وہ اب بھی صداقت