حیاتِ نور

by Other Authors

Page 662 of 831

حیاتِ نور — Page 662

ات تُـ ـور ۶۵۷ دیانتداری اور تقویٰ سے کام لے رہے تھے۔یا محض اقتدار کی ہوس ان سے یہ غیر اسلامی حرکتیں کروا رہی تھی؟ میں سمجھتا ہوں اگر گم نام ٹریکٹ لکھنے والا بھی مندرجہ بالا حوالہ پڑھ لے۔تو اسے فورا سمجھ آجائے کہ اس نے جو کچھ ٹریکٹوں میں لکھا تھا۔وہ سراسر خلاف شرع تھا۔اور وقتی جوش کی وجہ سے محض عداوت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ) کی بناء پر لکھا تھا۔ورنہ حقیقت یہی ہے جو میں سال بعد پیغام صلح نے بیان کی ہے کہ ایک واجب الاطاعت امیر کے بغیر کسی قوم کی ترقی محال اور ناممکن ہے اور یہ کہ خلافت کا مسئلہ اسلام کے لئے کبھی بھی وبال جان ثابت نہیں ہوا۔اور نہ ہی اس کی وجہ سے اسلام تفرقوں کا آماجگاہ بنا ہے۔بلکہ مسلمانوں کے مصائب کی ساری وجہ مرکزیت کا فقدان ہے وبس۔وسوسه نمبر ۲ ہم اللہ تعالیٰ کا کروڑ کر وڑ شکر کرتے ہیں کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے زمانہ کا مسیح اور مہدی موعود کر کے بھیجا۔اس نے اپنے ہاتھ سے جمہوریت کا پودا لگایا۔اب یہ ذمہ داری اس کے پیروؤں کے سر پر جا پڑتی ہے کہ خواہ تو اس پودے کی آبیاری کر کے اسے شخصی دینی حکومتوں کے حملوں سے بچائے رکھیں اور خواہ بے یار و مددگار چھوڑ کر اسے سوکھ جانے دیں۔جواب اس وسوسہ کا جواب ” خلافت اور انجمن‘ کی بحث میں تفصیلی طور پر گزر چکا ہے۔اور پیغام مصلح کے اوپر کے اقتباس نے تو اس اعتراض کا صفایا ہی کر دیا ہے۔جب تم خود تسلیم کرتے ہو کہ ایک واجب الا طاعت امیر کے بغیر کوئی قوم پنپ نہیں سکتی۔تو اپنی مزعومہ جمہوریت کو تو خود تم نے اتھاہ گڑھے میں دفن کر دیا۔اب بتاؤ اگر تمہاری جمہوریت سوکھ جائے۔تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہم تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصریحات کے مطابق خلافت اور انجمن دونوں کو ضروری سمجھتے ہیں۔اور اس کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔البتہ تم نے سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی عداوت کی وجہ سے حضرت خلیفۃ امسیح اول جیسے رحیم و کریم انسان کی بھی ناراضگی مول لی۔اور واجب الاطاعت امیر کے بغیر کام بھی نہ چلا سکے۔گویا خسر الدنیا والآخرة کے مصداق بن گئے۔اب بتائیے اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ ވކހނނ "خدا کا مقرر کردہ خلیفہ حضرت مسیح موعود کے سوا اور کوئی نہیں“۔