حیاتِ نور — Page 622
۶۱۷ اسلام کے لئے اُن کے ارادوں کی عملاً مدد کریں تو یقیناً یورپ آفتاب اسلام کی نورانی شعاعوں سے منور ہو جائے گا“۔۳۹ ایک عیسائی کا قبول اسلام ۲۲ / مارچ ۱۹۱۳ء ــور ۲۲ / مارچ ۱۹۱۳ ء کو ایک عیسائی ڈاکٹر بھگواند اس کشتہ ستارہ ہند ہیڈ ماسٹر سکول سہارنپور حضرت خلیفہ مسیح علیہ السلام کی خدمت میں مشرف بہ اسلام ہونے کے لئے پیش ہوئے۔تو حضرت خلیفہ المسیح نے ایک وعظ فرمایا جس میں کلمہ طیبہ اور اسلام کی حقیقت بیان فرمائی۔خلاصہ اس بیان کا یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ کے یہ معنی ہیں کہ صرف اللہ ہی ہے جو کہ انسان کی ضروریات کی تمام چیزیں مہیا کرتا ہے۔اور ان کو پیدا کرتا ہے۔اس کے سوا کسی اور کی پرستش نہ کرنا اور کسی اور کو معبود نہ جاننا اور الہ کے معنی ہیں معبود۔خدا کے سوا غیر کو پوجنا اور سجدہ کرنا۔اس کا نام شرک ہے۔لیکن اسلام نے جہاں اشھد ان لا الہ الا اللہ فرمایا ہے وہاں ساتھ ہی اشھد ان محمد عبدہ ورسولہ بھی رکھا ہے اور اس کا بھید یہ ہے کہ چونکہ دنیا میں جب کبھی کوئی راستباز آیا۔تو تھوڑے عرصہ کے بعد اس کے ماننے والوں نے اس کو خدا ٹھہرالیا۔رامچندر جی کو خدا بنایا گیا۔کرشن جی کو خدا ٹھہرایا گیا اور حضرت مسیح کو بھی خدا اور خدا کا بیٹا بتایا گیا ہے۔حالانکہ حضرت مسیح نے کہا بھی تھا کہ مجھے اچھا نہ کہو۔بلکہ اچھا ایک ہی ہے۔جس کو خدا کہتے ہیں۔اس لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نکتہ تجویز فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ مجھے بھی ان کی ہی طرح بنایا جاوے تو لا الہ الا اللہ کے ساتھ اپنا عبد اور رسول ہونا بھی رکھ دیا۔پھر اسلام کا دوسرا پہلو شفقت علی خلق اللہ ہے۔زکوۃ اور حج کرنے کا حکم کر کے عام لوگوں پر شفقت کرنا سکھایا اور نماز روزہ کا حکم کر کے اپنی جان پر شفقت کرنا سکھایا۔روزہ بڑی بابرکت چیز ہے اور اس میں انسان کو مشق کرائی جاتی ہے کہ وہ اپنی جان کے لئے ناجائز طور پر کوئی چیز استعمال نہ کرے۔کیونکہ جب روزہ میں جائز چیزوں کو چھوڑنا سیکھے گا۔تو محمد رسول اللہ کو سچا سمجھتا ہوا اس کی ناجائز کر دہ چیزوں کو تو ضرور ہی چھوڑ دے گا۔غرض نتیجہ کلمہ شہادت سے یہ نکلا کہ اللہ کے سواکسی اور کو معبود نہ جانو اور محمد اللہ کا رسول اور بندہ ہے۔اور نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ میں انسان کی اپنی جان کی بھلائی اور دیگر عام مخلوق کی بھلائی ہے۔