حیاتِ نور

by Other Authors

Page 621 of 831

حیاتِ نور — Page 621

ور کے خدو خال کو نمایاں کر رہا تھا۔مجھے افسوس ہے کہ کیوں ایک ایسے اشتہار کی اشاعت اس حد تک جائز رکھی گئی ہے کہ وہ بہت دنوں سے خدا پرست قادیان کی دیواروں کو چھٹا ہوا ہے۔خصوصاً مولوی نورالدین صاحب اور صاحبزادہ صاحب کو اسے اکھاڑ ڈالنا چاہئے تھا۔اس کو دیکھ کر مجھے خوف پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں یہ پیر پرستی کی کمزوری چنگاری بڑھتے بڑھتے سارے قادیان کو بھسم نہ کر ڈالے۔جو غالباً مولوی نورالدین صاحب کی اس دنیا سے رحلت فرمانے کی انتظار میں ہے۔جس کا تدارک امید ہے کہ صاحبزادہ صاحب ابھی سے فرما دیں گے۔( حضرت صاحبزادہ صاحب کی سفر حج سے کامیاب مراجعت پر اہل قادیان بلکہ کل جماعت احمدیہ کا فرحت محسوس کرنا بلکہ خوشی ومسرت کے گیت گانا بالکل بجا اور اسلامی روح کے عین مناسب تھا۔میاں محمد اسلم صاحب غالباً اس امر کو بھول گئے ہونگے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے۔تو اہل مدینہ نے کافی دور باہر جا کر حضور کا مدحیہ اشعار اور نعتوں سے استقبال کیا تھا۔اور ان کا یہ فعل انسانی فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق تھا۔اسی طرح حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جو اس وقت حضرت خلیفہ امسیح کے بعد ساری جماعت احمدیہ کے نزدیک اپنی خدمات دینیہ کی وجہ سے معزز اور واجب الاحترام تھے ان کی ایک لمبے اور کامیاب دینی سفر سے واپسی پر مسرت اور انبساط کا اظہار نہ کیا جاتا۔تو یقینا اہل قادیان اپنے فرض سے کوتاہی کرتے۔ناقل ) اس ایک خفیف مگر برائے نام نقص کے علاوہ باقی جو کچھ میں نے احمدی قادیان میں جا کر دیکھا وہ خالص اور بے ریا تو حید پرستی تھی۔اور جس طرف نظر اٹھتی تھی قرآن ہی قرآن نظر آتا تھا۔غرض قادیان کی احمدی جماعت کو عملی صورت میں اپنے اس دعوے میں کہیں بڑی حد تک سچا ہی سچا پایا کہ وہ دنیا میں اسلام کو پر امن صلح کے طریقوں سے تبلیغ واشاعت کے ذریعے ترقی دینے کے اہل ہیں۔اور وہ ایسی جماعت ہے جو دنیا میں عملاً قرآن مجید کے خالصہ اللہ پیر و اور اسلام کی فدائی ہے اور اگر تمام دنیا اور خصوصاً ہندوستان کے مسلمان یورپ میں اشاعت