حیاتِ نور — Page 620
۶۱۵ ات نور " پیر پرستی کا نرالا ڈھونگ جو ہندوستان میں مسلمانوں کی شامت اعمال سے ہندوستان کے بڑے بڑے اولیاؤں کے مزاروں کے ذریعے ان کے جانشینوں اور خلیفوں نے ڈال کر اپنے طرز عمل سے اسلامی توحید کی مٹی پلید کر رکھی ہے۔میں نے اپنے دو دن کے قیام میں اس کا کوئی شائبہ عملی صورت میں نہیں دیکھا۔مرزا صاحب کی قبر کو بھی جا کر دیکھا۔جس پر کوئی عالی شان یا معمولی روضہ نہیں بنایا گیا۔اپنے گردو نواح کی قبروں سے اسے کسی قسم کی نمایاں خصوصیت نہیں تھی۔اور نہ کسی مجاور یا جاروب کش کو وہاں پایا۔نہ کسی کو زیارت کرتے یا دعا مانگتے دیکھا۔(ممکن ہے جس وقت میاں محمد اسلم صاحب حضرت اقدس کی قبر پر گئے ہوں۔اس وقت وہاں کسی کو دعا کرتے نہ دیکھا ہو۔ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق حضرت اقدس کی قبر کی زیارت بھی کی جاتی ہے۔اور دعائیں بھی مانگی جاتی ہیں۔البتہ دعائیں مانگنے والے حضور کو مخاطب کر کے اپنے لئے کوئی چیز نہیں مانگتے۔ہاں حضور کے مدارج کی ترقی کے لئے اور اپنی مغفرت کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگتے ہیں۔ناقل ) میں نے نہایت غور سے اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر قبر کے سرہانے کو دیکھا کہ کہیں پرستش کی مستحق قبروں کی طرح اس قبر پر بھی چراغ جلایا جا تا ہو۔مگر میں نے اس کا کوئی نشان نہ پایا۔علاوہ اس کے میرے روبرو تو نہ مولوی نور الدین صاحب سے کسی نے تعویز لینے کی استدعا کی اور نہ کسی سائل یا مریض کو انہوں نے لکھدیا۔اور نہ کسی پر جھاڑ پھونک کی۔پس ہر ایک معاملے میں علاوہ بیماروں کو علاج بتانے کے خداوند تعالیٰ سے دعائیں مانگنے کا زور تھا۔جس کے لئے مولوی نورالدین صاحب نے اپنے آپ کو مخصوص نہیں بنارکھا۔ہاں ایک بات کسی حد تک پیر پرستی کی بنیاد آئندہ قادیان میں قائم ہو جانے کے متعلق مجھے نظر آئی۔وہ الحکم کے ایڈیٹر کا ایک مطبوعہ اشتہار تھا۔جو قادیان میں بہت جگہ چسپاں پایا گیا جو صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب کے سفر حج سے بخیر و عافیت واپس آنے کی مبارکبادی کے لئے شائع کیا گیا تھا۔جس کا مفہوم لڑ لگے دی لاج“ جیسے پنجابی فقرہ اور باقی سیاق عبارت سے پیر پرستی