حیاتِ نور — Page 599
ـاتِ نُ ۵۹۴ کی تھیں۔لیکن بظاہر کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔کیونکہ وہاں کے رستہ کی مشکلات سے طبیعت گھبراتی تھی۔اور یہ بھی خیال تھا کہ مخالفین کوئی شرارت نہ کریں لیکن مصر کے ارادہ سے یہ خیال ہوا کہ مصر جانا اور راستے میں مکہ کو ترک کر دینا ایک بے حیائی ہے۔اس میں تو کچھ شک نہیں کہ جدہ سے مکہ تک کا سفر نہایت کٹھن ہے۔اور میر صاحب تو قریباً بیمار ہو گئے۔اور مجھے بھی سخت تکلیف ہوئی اور تمام بدن کے جوڑ جوڑ ہل گئے۔لیکن بڑی نعمتیں بڑی قربانیاں بھی چاہتی ہیں۔اس بڑی نعمت کے لئے یہ تکلیف کیا چیز ہے؟ مدینہ کا راستہ اور بھی طویل اور کٹھن ہے۔لیکن چند دن کی تکلیف ان پاک مقامات کے دیکھنے کے لئے کہ جہاں رسول کریم فداہ ابی وامی نے اپنی بعثت نبوت کا ایک روشن زمانہ گزارا کیا چیز ہے؟ میرا دل تو اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر قربان ہوا جارہا ہے کہ وہ کس حکمت کے ساتھ مجھے اس جگہ لے آیا۔ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يشَاء اللہ تعالیٰ کی حکمت اس سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ اول تو اس جہاز سے جو مصر جاتا تھا رہ گئے۔لیکن بعد میں جب اصرار کر کے دوسرے جہاز میں سوار ہوئے تو مصر پہنچتے ہی خواب آیا کہ حضرت صاحب یا آپ فرماتے ہیں کہ فورا مکہ چلے جاؤ۔پھر شاید موقع ملے نہ ملے۔چنانچہ دو جہاز چلے گئے اور ہم ان میں سوار نہ ہو سکے۔جس سے خواب کی تصدیق ہو گئی۔اس طرح مصر کی سیر بھی نہ کر سکے اور جب مکہ پہنچے۔تو معلوم ہوا کہ اب مصر نہیں جاسکتے۔کیونکہ گورنمنٹ مصر کا قاعدہ ہے کہ سوائے ان لوگوں کے جو مصر کے باشندہ ہوں حج کے بعد چار مہینہ تک کوئی شخص حجاز و شام سے مصر تک نہیں جا سکتا۔اس طرح گویا اگر میں مصر جانا چاہوں۔تو مجھے اپریل تک وہاں جانے کی اجازت نہیں۔اپریل کے آخر میں وہاں جا سکتا ہوں۔اب اس صورت میں مصر کو واپس جانا فضول معلوم ہوتا ہے۔میں نے تو ان سب واقعات کو ملا کر یہی نتیجہ نکالا ہے کہ منشائے الہی مجھے حج کروانے کا تھا۔اور مصر کا خیال ایک تدبیر تھی۔19 ایک چٹھی میں آپ نے لکھا: