حیاتِ نور

by Other Authors

Page 598 of 831

حیاتِ نور — Page 598

۵۹۳ اگر وہ ان کا اندازہ لگاسکیں۔تو ان کے دل محبت سے پگھل جائیں۔لیکن لا يعلم اسرار القلوب الا اللہ۔میں امید کرتا ہوں کہ احباب قادیان اور دیگر احمدی برادران بھی میرے لئے دعا ئیں کرتے ہوں گے۔تبلیغ کے وقت بھی بڑی کامیابی معلوم ہوتی ہے۔لوگ بڑے شوق سے باتیں سنتے ہیں“۔دوسرے خط کا خلاصہ : اللہ تعالیٰ کے فضل سے سے نومبر کو میر صاحب سمیت مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔اور عمرہ ادا کیا۔زیارت بیت اللہ شریف کے وقت ، دخول مکہ کے وقت صفا و مروہ کے وقت اہل قادیان اور جماعت احمد یہ اور حالت اسلام کی درستی کے لئے بہت دعائیں کیں اور اللہ تعالیٰ نے بہت توفیق دی حضرت خلیفہ المسیح کے خط سے آپ کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ مصر جانا مشکل ہے اور غالبا مدینہ منورہ سے واپس لوٹنا ہوگا۔میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت سمجھتا ہوں۔۱۸ تیسرا خط جو آپ نے حضرت خلیفہ المسیح الاول کی خدمت میں لکھا۔اس خط سے چونکہ بعض ایسی باتوں کا پتہ چلتا ہے۔جن کا تاریخ سلسلہ سے تعلق ہے۔اس لئے اس کا زیادہ حصہ درج کیا جاتا ہے: سیدی و امامی و استاذی السلام علیکم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور عنایت سے بخیر وخوبی کل بتاریخ سات اکتوبر کو مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر اور عنایت ہے کہ اس نے اپنے فضل سے اپنے پاک اور مقدس مقام کی زیارت کا موقعہ دیا۔کل جب مکہ کی طرف اونٹ آ رہے تھے۔دل کی عجیب کیفیت تھی کہ بیان نہیں ہو سکتی۔محبت کا ایک جوش دل میں پیدا ہو رہا تھا اور جوں جوں قریب آتے تھے۔دل کا شوق بڑھتا جاتا تھا۔میں حیران ہوں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنی حکمت اور ارادہ کے ماتحت کہاں سے کہاں کھینچ لایا۔پہلے مصر کا خیال پیدا ہوا۔پھر یہ خیال آیا کہ راستہ میں مکہ ہے اس کی زیارت بھی کر لیں۔پھر خیال ہوا حج کے دن ہیں۔ان سے بھی فائدہ اٹھایا جائے۔غرض کہ ارادہ مصر سے مکہ اور حج کا ہوا۔اور آخر اللہ تعالیٰ نے وہاں پہنچا دیا۔مجھے مدت سے حج کی خواہش تھی۔اور اس کے لئے دعائیں بھی