حیاتِ نور

by Other Authors

Page 600 of 831

حیاتِ نور — Page 600

ب ۵۹۵ دعاؤں سے رغبت اور دعاؤں کا القاء اور رحمت الہی کے آثار جو میں نے اس سفر میں اور خصوصاً مکہ مکرمہ اور ایام حج میں دیکھے ہیں۔وہ میرے لئے بالکل ایک نیا تجربہ ہے اور میرے دل میں ایک جوش پیدا ہوا ہے کہ اگر انسان کو تو فیق ہو تو وہ بار بار حج کرے۔کیونکہ بہت سی برکات کا موجب ہے۔اس سفر میں بہت سے تبلیغ کے موقعہ بھی ملتے رہے ہیں۔اور بہت سے نئے تجربات بھی ہوئے ہیں۔شریف مکہ سے بھی ملنے کا اتفاق ہوا۔ایک اور خط میں آپ لکھتے ہیں: مولوی ابراہیم سیالکوٹی بھی یہاں آیا ہوا ہے۔اس نے ایک شخص کی معرفت کہلا بھیجا کہ میں مباحثہ کروں گا۔مجھے تو وہ نہیں ملا۔عرب صاحب بیٹھے تھے۔انہوں نے جواب دیا کہ ہم یہاں مباحثات نہیں کرنے آئے۔حج کے لئے آئے ہیں۔مباحثات کے لئے ہندوستان کیا کم ہے ؟ معلوم نہیں کس طرح مکہ میں ہماری آمد کی اطلاع ہو گئی۔اور اکثر ہندوستانی اس بات کو جانتے ہیں۔ہمارے معلم کو بھی پہلے سے علم تھا۔اور کئی لوگ ملے ہیں۔آنافا نا خبر مشہور ہوگئی۔اور جڑ معلوم نہیں ہوتی۔مکہ میں میں کچھ ایسا مشہور ہوا کہ بازار میں لوگ بعض دفعہ اشارہ کر کے ایک دوسرے کو بتاتے تھے کہ ابن قادیانی۔اللہ اللہ ! قادیان حضرت صاحب کی وجہ سے کیسا مشہور ہوا۔لوگ لاہور، امرتسر کو نہیں جانتے ہیں۔" حضرت صاحبزادہ صاحب کے ایک اور خط کا خلاصہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے مکہ معظمہ سے ایک خط لکھا۔جس میں ایک خواب بھی درج ہے۔جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعہ سے اسلام اور احمدیت کو بہت ترقی دینے والا تھا۔آپ فرماتے ہیں: میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک جگہ ہوں۔اور میر صاحب اور والدہ ساتھ ہیں۔آسمان سے سخت گرج کی آواز آرہی ہے۔اور ایسا شور ہے۔جیسے تو ہوں کے متواتر چلنے سے پیدا ہوتا ہے اور سخت تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ہاں کچھ کچھ دیر کے بعد آسمان پر روشنی ہو جاتی ہے۔اتنے میں اس دہشت ناک حالت کے بعد