حیاتِ نور — Page 559
ـور ۵۵۴ ابتدائی زمانہ میں ( قادیان میں ) نہ کوئی ہسپتال تھا۔نہ سیونگ بینک ڈاکخانہ کا۔اکثر لوگ حضرت مولوی صاحب کے پاس اپنا روپیہ جمع کروا دیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ ایک مہمان نے کہا کہ میں نے ۴ بجے شام کی گاڑی پر وطن جانا ہے۔میرا روپیہ دیدیں۔مجھے معلوم تھا کہ اس وقت آپ کے گھر میں روپیہ موجود نہیں۔کیونکہ اکثر میں ہی گھر کا کام کاج کرتا اور سودا لایا کرتا تھا۔بلکہ برسات میں کوٹھے پر مٹی بھی ڈالا کرتا تھا۔حضرت مولوی صاحب نے اپنی صدری کی جیب میں سے دو روپے نکال کر مجھے دیئے اور فرمایا کہ فلاں بیوہ کے گھر دے آؤ۔میں نے تعمیل ارشاد کی۔اور پھر آپ کے مطب میں آ کر بیٹھ گیا۔۱۳ بجے کے قریب ایک غیر معروف شخص آیا۔اس نے ایک سوتر اسی روپے چاندی کے مولوی صاحب کے سامنے رکھ دیئے۔ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے۔وہ روپیہ ڈال کر چلتا ہوا۔حضرت مولوی صاحب نے مجھے فرمایا کہ وہ مہمان جو روپیہ مانگتا تھا کہاں ہے۔میں نے عرض کی کہ مہمانخانہ میں ہے فرمایا اس کو بلا لاؤ۔چنانچہ میں اسے بلالا یا۔اس پر مولوی صاحب نے فرمایا کہ بھائی یہ اپنا روپیہ لے لو۔اس پر مہمان نے معذرت کی کہ حضور کو تکلیف ہوئی۔آپ نے فرمایا کہ ہم نے تو اللہ تعالیٰ سے سودا کیا تھا کہ دو روپے کسی مستحق بیوہ کو دیئے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلہ میں یہ روپیہ بھیج دیا۔حضرت مسیح موعود کی آپ سے محبت ایک دفعہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کو روپے کی ضرورت پیش آئی۔حضرت اقدس سے آپ نے دوصد یا کم و بیش روپیہ منگوایا۔کچھ دنوں کے بعد اتار و پیہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں واپس کرنے کے لئے پیش کر دیا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ ”مولوی صاحب! کیا ہمارا اور آپ کا روپیہ الگ الگ ہے۔آپ اور ہم دو نہیں ہیں۔آپ کا روپیہ ہمارا اور ہمارا روپیہ آپ کا ہے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ حضور نے روپیہ نہیں لیا۔گو ہم نے کسی اور رنگ میں دیدیا۔اے