حیاتِ نور — Page 560
۵۵۵ ات نور دو ایمان افروز واقعات ۲۴ مارچ ۱۹۱۲ ء کے درس میں آپ نے فرمایا: ایک دفعہ بھیرہ میں غلہ اتنا مہنگا تو نہ تھا۔مگر مجھے معلوم ہوا کہ یہ گراں ہو جائے گا۔دل میں آیا کہ غلہ کافی خرید لوں۔پھر خیال آیا کہ جو دوسروں کا حال ہوگا۔ہم بھی گزار لیں گے۔چنانچہ غلہ سات سیر فی روپیہ ہو گیا۔مگر خدا نے وہ فضل کیا کہ میری آمدنی اس قدر بڑھا دی کہ مجھے اس سات سیر کے نرخ میں ذرا بھی بوجھ معلوم نہ ہوا۔فرمایا۔ایک بزرگ تھے۔ان کو الہام ہوا کہ اس دفعہ چنے بہت گراں ہو جائیں گے۔انہوں نے یہ الہام عام لوگوں کو بھی بتلا دیا۔مگر خود صرف سوروپے کے چنے خرید ہے۔حالانکہ وہ ہزار ہا روپے کے مالک تھے۔ان کو اس سوروپیہ کے چنوں میں کافی نفع ہوا۔میں نے ان کو کہا کہ آپ نے زیادہ روپوں کے چنے کیوں نہ خرید لئے۔انہوں نے کہا۔اس واسطے کہ میں اس الہام کو دنیا طلبی کا ذریعہ نہ بنالوں۔پھر پوچھا کہ سو روپے کے چنے کیوں خریدے؟ فرمایا اس واسطے کہ خدا تعالٰی کے فضل کو قبول کرلوں۔جو اس نے خود مجھے اطلاع دی ہے۔اگر ایسا نہ کرتا۔تو کفران نعمت تھا۔اور الہام الہی کی بے ادبی تھی۔۱۱۴ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہمراہ احمدی علماء کا دورہ ہندوستان ۳۰ را پریل ۱۹۱۲ء ۳ را پریل ۱۹۱۲ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب ، حضرت حافظ روشن علی صاحب محترم مولانا عبدائی صاحب عرب ، حضرت قاضی امیر حسین صاحب اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب پر مشتمل ایک وفد ہندوستان کے مختلف عربی مدارس کا طرز تعلیم و نصاب و دیگر انتظامی امور کو دیکھنے کے لئے قادیان دار الامان سے روانہ ہوا۔یہ وفدا اپنے ہمراہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض عربی کتب بھی تقسیم کرنے کی غرض سے لے گیا تھا۔دہلی ، سہارن پور، دیو بند وغیرہ کا دورہ کر کے آخر اپریل ۱۹۱۲ء میں بخیر و عافیت اور کامیاب و با مراد واپس دارالامان پہنچ گیا۔فالحمد للہ علی ذالک 10