حیاتِ نور

by Other Authors

Page 558 of 831

حیاتِ نور — Page 558

۵۵۳ دوست میری مجلس سے نہ اٹھیں میں ابھی دعا کرتا ہوں۔حضرت خلیفہ اول کا یہ فرمانا تھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب جو اس وقت درس میں موجود تھے پیشاب کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔حضرت خلیفہ اول نے انہیں اٹھتے دیکھا اور بہت بیتاب ہوئے اور دعا کرنے سے رکے رہے اور ایک دوست کو بھیجا کہ حضرت میاں صاحب کو جلدی واپس لائے۔چنانچہ حضرت میاں صاحب پیشاب کر کے مجلس میں واپس آگئے اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے دعا فرمائی۔اس مجلس درس میں شامل ہونے والے احباب کی تعداد کچھ زیادہ نہ تھی۔کیونکہ وہ بیٹھک جسمیں درس ہوا کرتا تھا کچھ زیادہ بڑی نہ تھی۔جو احباب اس مجلس میں موجود تھے ان میں مخدومی محترمی برادرم ( نواب ) میاں محمد عبداللہ خاں صاحب اور برادرم مکرم صوفی محمد ابراہیم صاحب بھی تھے۔دعا کے بعد دوستوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔یہ وہ واقعہ ہے جس کی طرف سید بدرالدین احمد صاحب نے اپنے دادا مرحوم کی زبانی اشارہ کیا ہے۔اے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امتند اوزمانہ کی وجہ سے محترم ملک صاحب کو اس واقعہ کی بعض تفصیلات بیان کرنے میں ذہول ہوا ہے۔حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتالوی کی ڈائری میں جو انہی ایام میں بدر میں چھپی ہے۔جہاں شاہ عبدالرحیم صاحب کا ذکر ہے۔وہاں مغرب کی بجائے نماز عصر لکھا ہے۔دوسرے محترم ملک صاحب نے لکھا ہے کہ وہ شخص جو حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب کی مجلس سے اٹھ کر گیا تھا وہ رفع حاجت کے لئے گیا تھا۔حالانکہ وہ وضو کرنے گیا تھا۔البتہ نفس واقعہ بالکل صحیح ہے۔اس درس میں جو لوگ شامل تھے۔ان کے حق میں تو حضرت خلیفہ اول کی دعا ضرور قبول ہو گئی ہوگی۔کاش خاکسار راقم الحروف بھی اس زمانہ میں موجود ہوتا اور پھر اس مبارک اور مقدس درس میں شامل ہو کر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی دُعا سے مستفید ہونے کا شرف حاصل کرتا۔مگر اے میرے مولا کریم ! میں تجھے قادر مطلق سمجھتا ہوں۔تو میرے جیسے حقیر اور بے مایہ انسان کو اپنی بے پایاں رحمت سے اب بھی بخش سکتا ہے تو نے خود اپنے کلام میں فرمایا ہے کہ رحمتی وسعت کل شی۔مجھے تیری اس رحمت سے امید ہے کہ میری بھی مغفرت ہو جائے گی۔الہم آمین صدقہ کی برکات حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب سابق مہر سنگھ کا بیان ہے کہ ـور