حیاتِ نور — Page 540
۵۳۵ و اسلام غیر احمدیاں پر ایک مضمون لکھدیا۔اور ادھر پیغام صلح میں یہ شائع کرا دیا گیا کہ حضرت خلیفہ اسی اول نے فرمایا ہے کہ میاں کفر و اسلام کا مسئلہ نہیں " سمجھا۔حالانکہ یہ بات بالکل جھوٹ تھی۔جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔۵۵۔اس حوالے سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح اول کی طرف جو بات منسوب کر کے لکھی گئی ہے۔اس کا وہ مفہوم ہر گز نہیں تھا۔جو مولوی محمد علی صاحب نے حضور کی طرف منسوب کیا ہے۔حضور نے تو انہیں یہ کہا تھا کہ آپ آیات مندرجہ بالا میں تطبیق دیں اور مجھے دکھا ئیں۔مگر مولوی صاحب نے کفر و اسلام غیراحمد یاں‘ کے مسئلہ پر ایک مضمون لکھد یا ادھر پیغام صلح میں حضرت خلیفۃ المسیح اول کی طرف منسوب کر کے یہ لکھدیا کہ ”میاں کفر و اسلام کا مسئلہ نہیں سمجھا“۔اس فقرہ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت خلیفہ اصبح الاول نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ کے نزدیک حضرت میاں صاحب کفر و اسلام کے مسئلہ کو نہیں سمجھے۔بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے خیال میں حضرت میاں صاحب اس بات کو نہیں سمجھے کہ کیوں آپ غیر احمد یوں کو کافر کہتے ہیں اور بھی مسلمان؟ اور حتی " کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے خیال میں حضرت میاں صاحب ہی ایسے زیرک اور سمجھدار انسان تھے۔جنہیں اس مسئلہ کو سمجھنا چاہئے تھا۔مگر وہ بھی نہیں سمجھے۔پس اصلی بات یہ ہے کہ حضرت خلیفة المسیح الاول بات یہ بیان فرما رہے تھے کہ میری نسبت لوگ کہتے ہیں کہ یہ بھی غیر احمدیوں کو مسلمان کہ دیتا ہے۔کبھی کا فر۔حالانکہ لوگ میری بات کو نہیں سمجھے۔حتی کہ ہمارے میاں بھی نہیں سمجھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول استاد تھے اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی پوزیشن شاگرد کی تھی۔اس لئے حضور نے اگر کسی موقعہ پر یہ فرمایا ہو کہ فلاں مسئلہ یا فلاں آیت کا مفہوم جس رنگ میں میں سمجھتا ہوں۔اُس رنگ میں اور لوگ تو الگ رہے میاں صاحب بھی نہیں سمجھے تو ایسا کہنے میں اس وقت کے لحاظ سے حضرت خلیفہ لمسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی کوئی بہتک نہیں ہو جاتی۔بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ لمسیح الثانی ایدہ اللہ کو آپ باقی تمام لوگوں سے زیادہ زیرک سمجھتے تھے۔مگر بعض مسائل یا آیات کی تفسیر میں اپنے برابر نہیں سمجھتے تھے۔ایک اور طریق سے بھی اس مسئلہ کو حل کیا جا سکتا ہے اور وہ اس طرح کہ اگر مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی یہ بجھتی ہو کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کا مسئلہ وہی تھا۔جو ان کا ہے تو حضور کے زمانہ خلافت