حیاتِ نور

by Other Authors

Page 541 of 831

حیاتِ نور — Page 541

۵۳۶ کے فتاویٰ کو جمع کر کے دیکھ لیا جائے۔ان سے صاف ظاہر ہو جائے گا کہ اس مسئلہ میں کونسا فریق حق پر ہے اور کونسا باطل پر ؟ سوال: کیا مولوی محمد علی صاحب نے مسئلہ کفر و اسلام پر مضمون لکھ کر حضرت خلیلة امسیح الاول کوسنا نہیں دیا تھا ؟ اور حضور نے اسکی تصدیق نہیں فرمائی تھی ؟ جواب: اس سوال کے پہلے حصہ میں کسی حد تک صداقت ہے۔لیکن دوسرا حصہ بالکل غلط ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت خلیفہ اسی الاول ان ایام میں بہار تھے۔جناب مولوی محمد علی صاحب نے حضور کی بیماری سے فائدہ اٹھا کر بالکل علیحدگی میں مضمون سنانے کی کوشش کی۔تا کوئی شخص آپ کی اس ہوشیاری سے آگاہ نہ ہو جائے۔چنانچہ جب پہلی مرتبہ مضمون سنانا چاہا۔تو باہر دروازہ پر پہرہ مقرر کر دیا۔تا کوئی اور شخص اندر نہ آسکے۔لیکن اتفاق سے حضرت ڈاکٹر خلیفہ بشید الدین صاحب پہنچ گئے۔جن کو روکنا مشکل تھا۔اس لئے مولوی صاحب مضمون سنائے بغیر اٹھ کر چلے آئے۔دوسری مرتبہ جناب مولوی محمد علی صاحب نے اس بات کے لئے نماز جمعہ کا وقت منتخب کیا حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل تو بیمار تھے مگر مولوی صاحب نے مضمون کو سنانے کو نماز جمعہ پر مقدم کر لیا۔کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ یہ وقت ایسا ہے جب سب لوگ نماز کے لئے چلے جائیں گے اور آپ اطمینان کے ساتھ جو دمہ مضمون کا چاہیں گے، سنا سکیں گے۔چنانچہ آپ نے مضمون سنایا۔اب رہا یہ امر کہ خلیفہ المسیح کو سارا مضمون من وعن سنایا گیا اور حضور نے اسے پسند فرمایا۔یا اس کی تصدیق کی، یہ بات سرے سے ہی غلط ہے۔کیونکہ اول مولوی محمد علی صاحب نے اس مضمون میں اسلام کی تعریف میں آیت وَمَا يُؤْمِنُ أكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ - ۵ سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس آیت میں مشرکین پر بھی مومن کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ہے حالانکہ قرآن کریم پڑھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ یہ آیت کفار مکہ کے حق میں ہے۔اس آیت سے استدلال کر کے جناب مولوی صاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔کہ اسلام کی تعریف ایسی وسیع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے والے بھی مومن ہیں۔کیا حضرت خلیفہ المسیح الاول مومن کی اس تعریف سے اتفاق کر سکتے تھے؟ خصوصاً جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب پٹیالوی کو اس تعریف کی بنا پر جماعت سے خارج کر دیا تھا۔