حیاتِ نور — Page 538
۵۳۳ ونور کے جانشین آپ ہی ہو سکتے ہیں۔مگر آپ نے اس بوجھ کو تامل کے ساتھ قبول فرمایا۔پہلے خواجہ کمال الدین صاحب و دیگر احباب جو آپ کی خدمت میں درخواست لے کر گئے تھے۔آپ نے اور ایک دو نام تجویز کر دیئے۔پھر دوبارہ سب کے اصرار پر آپ نے فرمایا کہ میاں محمود احمد صاحب اور میر نا صرنواب صاحب کا اس پر اتفاق نہیں۔جواب : یہ امر کہ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب اور حضرت میر ناصر نواب صاحب کو حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی بیعت کرنے پر اتفاق نہیں تھا۔یہ ایسی خلاف واقعہ بات ہے کہ جس پر کسی مزید دلیل کے لانے کی ضرورت نہیں۔بڑا سے بڑا ثبوت غیر مبائعین نے اس وقت تک اس بات کی تائید میں جو پیش کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ میاں محمود احمد صاحب سے پوچھا گیا۔تو انہوں نے کہا کہ میں اپنی والدہ سے مشورہ کر کے بتاؤنگا اور بعد از مشورہ انہوں نے اور میر ناصر نواب صاحب نے۔۔۔حضرت مولانا نورالدین صاحب پر اتفاق ظاہر کیا۔۱۲ گو ہمارے نزدیک واقعات یہ بتاتے ہیں کہ مندرجہ بالا دونوں حضرات دل و جان سے حضرت خلیفہ اسح الاول پر فدا تھے۔اور حضور کے علاوہ کسی اور شخص کو اس منصب کا اہل ہر گز نہیں سمجھتے تھے۔لیکن اگر حضرات غیر مبائعین کی اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ انہوں نے بیعت سے قبل ام المومنین سے مشورہ کرنا ضروری سمجھا۔تو اس میں حرج کی کونسی بات ہے؟ کیا خواجہ کمال الدین صاحب نے ساری جماعت کی طرف سے بطور نمائندہ آپ سے مشورہ نہیں کیا ؟ پس اگر مشورہ کرنے کے معنے انکار کرنے کے ہیں۔تو اس انکار میں تو ساری قوم شامل ہے۔سوال " حضرت خلیفہ المسیح الاول نے ایک موقعہ پر فرمایا۔کفر و اسلام کا مسئلہ دقیق مسئلہ ہے جس کو بہت سے لوگوں نے نہیں سمجھا۔۔سے لوگوں۔ہمارے میاں نے بھی اس کو نہیں سمجھا۔۵۳ جواب : یہ بات بھی بالکل غلط اورخلاف واقعہ ہے۔حضرت خلیفہ سیح الثانی ایدہ الہ نے اس بات پر واشگاف الفاظ میں روشنی ڈالی ہے۔آپ فرماتے ہیں: مولوی محمد علی صاحب کو قرآن کریم کے بعض مقامات پر نوٹ کرانے کے دوران میں حضرت خلیفہ المسیح اول نے مختلف آیات کے متعلق ایک دن فرمایا کہ