حیاتِ نور — Page 506
-^ ـور تسبیح وتحمید اور درود کی کثرت۔۵۰۲ قرآن کریم اور احادیث کا پڑھنا اور پڑھانا۔آپس میں محبت بڑھانا اور لڑائی جھگڑوں سے بچنا۔بدظنی اور تفرقہ سے بچنا۔نماز با جماعت کی پابندی رکھنا۔وغیرہ۔اس انجمن کی ابتدا چالیس ممبروں کے ذریعہ سے ہوئی لیکن آہستہ آہستہ یہ تعداد بڑھ کر پونے دو سوتک پہنچ گئی۔صاف ظاہر ہے کہ اس انجمن کا مقصد نہایت ہی نیک تھا۔لیکن خلافت کے مخالفین نے اس پر بھی اعتراضات کی بوچھاڑ شروع کر دی۔اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ خلافت کے حصول کی کوشش کے لئے اپنے ساتھ نو جوانوں کی ایک جماعت شامل کی گئی ہے۔حالانکہ خلافت کے حصول کا اس انجمن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔اور ہو بھی کیسے سکتا تھا۔جبکہ حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف کے نزدیک ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے خلیفہ کے متعلق گفتگو کرنا بھی شرعا نا جائز تھا۔کمار۔انصار اللہ کے ممبران کا کام تو صرف اپنی اصلاح اور تبلیغ احمد یت تھا۔جو خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے زوروں کے ساتھ شروع ہو گیا۔اور اس کی بھی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ جناب خواجہ صاحب اپنی تقریروں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اور سلسلہ حقہ کا ذکر کر نا زہر قاتل سمجھتے تھے۔اور مرکز احمدیت کو کمزور کرنے کے لئے خلافت کو مٹانا ان کی تقریروں کا ایک اہم جزو تھا۔اور جماعت کے بیدار مغز دوست ان کی اس چال کو خوب سمجھتے تھے مگر کھل کر ان کا مقابلہ کرنا اس وقت کے حالات کے لحاظ سے مشکل نظر آتا تھا۔کیونکہ جیسا کہ پیچھے ذکر ہو چکا ہے۔جناب خواجہ صاحب بڑے ہوشیار اور جہاندیدہ انسان تھے۔وہ حضرت خلیفہ ایسی اول کے دربار میں جب حاضر ہوتے۔تو اس طرح کلام کرتے۔جس طرح وہ آپ کے پورے فرمانبردار اور خلافت پر پختہ عقیدہ رکھنے والے احمدی ہیں۔اور اپنے رفقاء جناب مولانا محمد علی صاحب اور محترم ڈاکٹر صاحبان کو بھی یہی سمجھاتے رہتے تھے۔کہ حضرت خلیفہ اول بوڑھے آدمی ہیں۔اور پھر بیمار بھی ہیں۔اس لئے زیادہ عرصہ تک دنیا میں رہتے نظر نہیں آتے۔لہذا آپ کی زندگی میں آپ کی مخالفت کرنا دانشمندی کے خلاف اور جماعت کو خواہ مخواہ اپنا مخالف بناتا ہے۔البتہ جماعت میں درپردہ ایسے خیالات کی اشاعت ضرور کرنی چاہئے کہ حضرت مولوی صاحب تو بزرگ آدمی ہیں۔اس لئے انہیں ہم نے اپنا پیر مان کر ان کی بیعت کر لی ہے۔اب