حیاتِ نور

by Other Authors

Page 507 of 831

حیاتِ نور — Page 507

فتم ۵۰۳ ـاتِ نُ آئندہ کے لئے کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آتا۔جسے اپنا امام اور پیشوا مان لیا جاوے۔اس لئے حضرت مسیح موعود کے منشاء کے مطابق صدر انجمن ہی کو سارے اختیارات سونپ دینے چاہئیں۔کیونکہ الوصیت کے مطابق صدر انجمن ہی حضرت مسیح موعود کی جانشین ہے۔وغیرہ وغیرہ۔حضرت خلیفہ اسیح اول بھی سمجھتے تھے کہ سوئے ہوئے فتنے کو جگانا درست نہیں۔لہذا ان کے خلاف باتیں کرنے والوں پر بعض اوقات آپ ناراض بھی ہو جایا کرتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ تم کیوں ان کے پیچھے پڑ گئے ہو۔مگر جیسا کہ بعد کے حالات نے بتا دیا۔یہ لوگ اس وقت منافقت سے کام لے رہے تھے۔اور عقیدہ ان کا وہی تھا۔جس کا انہوں نے حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد اظہار کیا۔یعنی خلافت کو مٹانا ان کے عزائم کا جزو اعظم تھا۔لیکن یاد رہے کہ اصل جنگ حصول اقتدار کی تھی۔اگر ان کو یہ یقین ہوتا کہ جماعت ان میں سے کسی شخص کو خلیفہ مان لے گی تو یہ کبھی بھی خلافت کا انکار نہ کرتے۔یہ لوگ چونکہ جانتے تھے کہ ان میں سے کوئی شخص بھی اس اہم منصب کا اہل نہیں۔اس لئے ان کا ساراز در اس امر پر تھا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنا جانشین صدر انجمن کو قرار دیا ہے۔لہذا اصل حاکم صدر انجمن ہے۔نہ کہ خلیفة اسخ- صدر انجمن میں چونکہ ان کی اکثریت تھی۔اس لئے یہ سمجھتے تھے کہ اگر خلافت مٹ گئی۔تو جماعت کو ہم اپنے منشاء کے مطابق چلائیں گے۔مگر بناوٹ بناوٹ ہی ہوتی ہے۔کبھی کبھی ان کی حرکات سے صاف واضح ہو جاتا تھا۔کہ وہ چاہتے کیا ہیں؟ چنانچہ حضور اس کا اظہار بھی فرما دیتے تھے۔مگر پھر ان کے جھک جانے کی وجہ سے معاملہ رفع دفع ہو جاتا تھا حتی کہ 1990ء کے اوائل میں جب ان لوگوں نے زور سے ہر نکالا۔اور کھلم کھلا خلافت کے خلاف اور انجمن کے حق میں پرو پیگنڈہ شروع کر دیا۔تو حضرت خلیفتہ المسیح اول نے احمد یہ بلڈ نکس لاہور کی مسجد میں جہاں ان لوگوں کی بود و باش تھی۔خلافت کے موضوع پر ان لوگوں کو مخاطب کر کے ایک عظیم الشان اور تاریخی تقریر فرمائی۔جس کا آئندہ اپنے موقعہ پر ذکر کیا جائے گا۔ڈاکٹری رپورٹ الحمد للہ حضرت صاحب کی طبیعت رو بصحت ہے۔زخم صرف ایک ثلث باقی رہ گیا ہے۔ہڈی کا ایک سرا بہت خفیف سا برہنہ ہے۔باقی سب پر انگور آ چکا ہے۔آج رات کو یہ سبب سو ہضم کے کچھ تکلیف ہو گئی تھی۔جو خدام سے کسی قدر کھانے میں بے احتیاطی ہو جانے کا نتیجہ تھی۔مگر الحمد للہ اس وقت طبیعت بہت اچھی ہے، طاقت بتدریج آ رہی ہے۔اب حضرت خود کھڑے ہو جاتے ہیں۔